انوارالعلوم (جلد 17) — Page 144
۱۴۴ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان انوار العلوم جلد ۱۷ دیا اور اس طرح دق اور سل اور خنازیر کے جراثیم اس بچے کے اندر چلے گئے۔چنانچہ جب وہ دو سال کا ہوا تو پہلے اُسے کھانسی ہوئی اور پھر وہ شدید خنازیر میں مبتلا ہو گیا اور کئی سال تک مدقوق و مسلول رہا مگر چونکہ اللہ تعالیٰ نے اُس کے ذریعہ ایک بہت بڑا نشان ظاہر کرنا تھا ، اس لئے خدا نے اُس کو بچالیا۔لیکن خنازیر کا مرض برا بر اُسے رہا بلکہ بعض دفعہ خنازیر کی گلٹیاں پھول کر گیند کے برابر برابر ہو جاتیں اور مسلسل بارہ تیرہ سال تک ایسا ہی ہوتا رہا۔ڈاکٹر اور طبیب مختلف ادویہ کی اُسے مالش کراتے اور کھانے کے لئے بھی کئی قسم کی دوائیں دیتے۔جب وہ لڑکا جوان ہوا تو اس بیماری نے دوسری شکل اختیار کر لی اور اُسے سات آٹھ مہینے متواتر بخار آتا رہا۔اطباء کہتے تھے کہ اس کا بچنا مخدوش ہے اور اب شاید ہی یہ جان بر ہو سکے اس وجہ سے وہ مدرسے میں بھی پڑھ نہیں سکتا تھا۔جب وہ مدرسے میں جاتا تو چونکہ اُس کی آنکھوں میں مکرے بھی تھے اس لئے وہ بورڈ کی طرف نہیں دیکھ سکتا تھا اور اگر دیکھتا تو اُس کے سر میں درد شروع ہو جاتا اس وجہ سے وہ پڑھائی کی طرف توجہ نہیں کر سکتا تھا۔یہاں تک کہ اُس کے اُستادوں نے بانی سلسلہ سے شکایت کی کہ یہ لڑکا پڑھتا نہیں۔انہوں نے کہا یہ بیمار ہے اس پر زیادہ زور نہ دو۔مدرسے میں آتا رہے اور کوئی لفظ اس کے کان میں پڑ جائے اتنا ہی کافی ہے زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں۔یہاں تک کہ اُس نے سکول کا کوئی امتحان پاس نہ کیا۔پرائمری میں شاید پاس ہوا ہو تو ہوا ہو اور غالبا وہ پرائمری میں بھی پاس نہیں ہوا لیکن مڈل میں وہ یقینا فیل ہوا اور انٹرنس میں بھی یقیناً فیل ہوا۔جب وہ انٹرنس میں پڑھتا تھا تو اُس کی لیاقت کا یہ حال تھا کہ امتحان پر جانے سے پہلے اُس نے گھر کا امتحان دیا تو TWO جو انگریزی کا ایک معمولی سا لفظ ہے اس کو اُس نے TOW لکھ دیا اور اُستاد نے حیرت سے پوچھا کہ یہ کیا لفظ ہے؟ میں تو اسے نہیں جانتا یہ اُس کی تعلیم کا حال تھا۔پھر جب بانی سلسلہ احمدیہ فوت ہوئے تو جماعت کے دل میں تحریک پیدا ہوئی کہ ان کا بھی ایک خلیفہ مقرر ہونا چاہئے جیسے اسلام کی سنت ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ مقرر کر دیا اور لوگوں نے سمجھا کہ وہ پیشگوئی جو ایک لڑکے کے جانشین ہونے کے متعلق تھی وہ غلط ثابت ہوئی اور خلیفہ کوئی اور شخص بن گیا۔اس کے بعد جماعت میں تفرقہ پیدا ہوا۔صدرانجمن احمد یہ جو مرکزی مجلس تھی اس کا اکثر حصہ کسی بات میں