انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 145 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 145

انوار العلوم جلد کا ۱۴۵ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان دوسرے لوگوں سے لڑ پڑا۔زیادہ جھگڑا یہ تھا کہ یہ نوجوان کہیں بانی سلسلہ احمدیہ کا جانشین نہ بن جائے اور انہوں نے سر سے پیر تک اُس کی مخالفت میں زور لگایا۔یہ لوگ بڑے مشہور لیکچرار تھے اور دُور دُور تک ان کا نام پہنچا ہوا تھا۔ان میں سے ایک کا نام غالباً آپ نے سُنا ہو گا خواجہ کمال الدین صاحب تھا۔وہ جہاں جاتے ان کے لیکچر مشہور ہو جاتے۔انگلستان میں بھی وہ مبلغ رہے ہیں اور ٹرکی ، مصر اور افریقہ کے علاقہ میں بھی وہ پھرے اور انہیں بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔دوسرے مولوی محمد علی صاحب تھے یہ اُن دنوں قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ کیا کرتے تھے اور اس وجہ سے بہت مشہور تھے۔اسی طرح ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اور ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب، یہ سب اس لڑکے کے مخالف ہو گئے اور چونکہ یہ صدرانجمن احمدیہ کے بھی ممبر تھے اس لئے انہوں نے پنجاب اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں دورے کرنے شروع کر دیے تا کہ جماعت میں اس لڑکے کے خلاف شورش پیدا ہو جائے اور تا ایسا نہ ہو کہ یہ لڑکا خلیفہ بن جائے۔گو یا اگر اس لڑکے کے متعلق کوئی پیشگوئی پوری ہونی تھی تو دنیا نے پورا زور لگایا کہ وہ پیشگوئی پوری نہ ہو۔اگر وہ لڑ کا چپ کر کے خلیفہ ہو جاتا جیسے پیروں میں طریق ہوتا ہے کہ باپ کے بعد بیٹا جانشین بنتا ہے تو لوگ کہتے مرزا صاحب کی یہ پیشگوئی اتفاقی طور پر پوری ہوئی ہے۔چونکہ پیروں میں قاعدہ ہے کہ بڑا مر جائے تو بیٹا خلیفہ بنتا ہے اس لئے مرزا صاحب کی وفات کے بعد ان کا بیٹا جانشین بن گیا اس میں عجیب بات کون سی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت مرزا صاحب کی وفات کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب کو خلیفہ مقرر کیا اور اس طرح وہ سوال اُٹھ گیا کہ یہ جانشینی پیروں کے عام دستور کے مطابق ہوئی ہے۔پھر اگر حضرت مولوی نورالدین صاحب کی وفات کے بعد وہ لڑکا بغیر مخالفت کے خلیفہ بن جاتا تو بھی لوگ کہہ سکتے تھے کہ چونکہ اس لڑکے کے والد صاحب کی بزرگی کا احساس جماعت میں قائم تھا اس لئے انہوں نے اس بزرگی کا احساس کرتے ہوئے ان کے لڑکے کو خلیفہ بنالیا۔لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا فرما دیے کہ جماعت کے تمام سرکردہ لوگ اُس لڑکے کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے اس قدر شدید مخالفت کی کہ ساری جماعت میں ایک آگ سی لگا دی اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ خواہ کچھ ہو جائے یہ لڑکا خلیفہ نہ ہو بلکہ غصہ میں انہوں نے یہاں تک کہہ دیا