انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvii of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xvii

انوار العلوم جلد کا تعارف کتب ۱۹۱۴ء کے اختلافات کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مصلح موعود سے متعلق بشارت اور اس کے ظہور پذیر ہونے کا تذکرہ نہایت دلکش انداز میں بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔غرض خدا تعالیٰ کی تازہ تائیدات نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ سلسلہ ہے اور اُس کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہے اس طرح وہ پیشگوئی جو آج سے ۵۹ سال پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے کی گئی تھی کہ میں تجھے ایک بیٹا عطا کروں گا جو خدا تعالیٰ کی رحمت کا نشان ہوگا ، جو خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان ہو گا ، جو خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان کا نشان ہوگا، اُس کے ذریعہ اسلام اور احمدیت کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔وہ پیشگوئی بڑی شان اور جاہ وجلال کے ساتھ پوری ہو گئی۔آج سینکڑوں ممالک زبانِ حال سے گواہی دے رہے ہیں کہ میرے زمانہ خلافت میں ہی اسلام کا نام اُن تک پہنچا ، میرے زمانہ خلافت میں ہی احمدیت کے نام سے وہاں کے رہنے والوں کے کان آشنا ہوئے“۔اس تقریر میں حضرت مصلح موعود نے اپنی بعض رؤیا اور اُن کے روز روشن کی طرح پورا ہونے کو اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا۔پس یہ تقریر اہل لاہور کیلئے حجت تھی ، یہ تقریر غیر مبائع احباب کیلئے حجت تھی، غرضیکہ یہ تقریر ہر مخالف کیلئے حجت تھی۔اس تقریر میں حضور نے بڑی تحدی کے ساتھ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت اور اپنے دعوی مصلح موعود کو پیش فرمایا۔آخر میں حضور نے خدائے واحد و قہار کی قسم کھا کر نہایت درجہ پر شوکت الفاظ میں اعلان عام فرمایا کہ:۔آج میں اس جلسہ میں اُسی واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتوں کا کام ہے اور جس پر افتراء کرنے والا اس کے عذاب سے کبھی بچ نہیں سکتا کہ خدا نے مجھے اسی شہر لاہور میں ۳ ٹمپل روڈ پر شیخ بشیر احمد صاحب