انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvi of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xvi

انوار العلوم جلد کا تعارف کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کو دیکھ کر ہمارے اندر رفت پیدا ہو اور ہم خدا تعالیٰ سے یہ عرض کریں کہ اے خدا! یہ وہ شخص ہے جس نے اسلام کی خاطر اپنی تمام زندگی وقف کر دی، یہ وہ شخص ہے جس پر تو نے الہامات نازل کئے کہ اس کے ہاتھوں سے اسلام کا احیاء ہوگا اور دنیا ایک نئے رنگ میں پلٹا کھائے گی ، اب یہ شخص فوت ہو چکا ہے اور ہمارے سامنے زمین میں دفن ہے، ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اس کے ساتھ محبت رکھتے اور اس کے غلاموں میں شامل ہیں اس لئے اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اِس ذمہ داری کو ادا کریں اور اُن وعدوں کو جو تو نے کئے پورا کرنے کے لئے اپنی جد و جہد اور کوشش کو کمال تک پہنچا دیں۔(۸) میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں دعوی مصلح موعود کے سلسلہ میں دوسرا عظیم الشان جلسہ مؤرخہ ۱۲ مارچ ۱۹۴۴ء کو لاہور میں منعقد ہوا اس جلسہ میں نہ صرف جماعت احمدیہ کے افراد بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے افراد بھی شامل تھے جنہوں نے پورے سکون اور اطمینان کے ساتھ آخر وقت تک تمام جلسہ کی کارروائی سنی اور اپنے اپنے ظرف کے مطابق فائدہ اُٹھایا۔زیر نظر روح پرور اور پر جلال تقریر حضرت مصلح موعود نے اس جلسہ میں ارشاد فرمائی جس کا ایک ایک لفظ دل میں اُترنے والا اور قلوب کو صاف کرنے والا ہے۔پیشگوئی مصلح موعود میں پسر موعود کی ایک علامت یہ بیان کی گئی تھی کہ :۔اس کا نزول ایسا ہوگا کہ كَاَنَّ اللَّهُ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ گویا خدا آسمان سے اتر آیا۔وہ لوگ جو اس جلسہ میں شریک ہوئے ان میں سے ہر ایک شخص اس بات کی شہادت دے سکتا ہے کہ ایسا ہی روح پرور نظارہ اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا بلکہ ایک مقام پر تو حضرت مصلح موعود کی زبان مبارک سے یہ کلمات بلند ہوئے جو ہزاروں انسانوں نے اپنے کانوں سے سنے کہ:۔اس وقت میں نہیں بول رہا بلکہ خدا میری زبان سے بول رہا ہے۔سید نا حضرت مصلح موعود نے اپنی تقریر کے پہلے حصہ میں اپنے خاندانی حالات اور پھر