انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 118

انوار العلوم جلد ۷ ۱۱۸ نہیں تھا اُس نے آپ کے گلے میں پڑکا ڈال کر اُسے مروڑ نا شروع کر دیا کہ میرا حصہ ہے یا نہیں؟ یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔مگر آپ نے سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہا کہ دیکھو ! میں بخیل نہیں اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں تمہیں ضرور دے دیتا۔ہے اس واقعہ کی اہمیت اُس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلوک بدوی نے آپ سے اُس وقت کیا جب آپ عرب کے بادشاہ تھے۔آج کسی انگریز کے چپڑاسی سے بھی اس قسم کی بات کہو تو وہ فوراً دوسرے کو پیٹنا شروع کر دے گا اور کہتا جائے گا تم نہیں جانتے میں ہوں کون ، حالا نکہ وہ ہوتا چپڑ اسی ہے۔اسی طرح آپ ایک دفعہ صدقہ و خیرات تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص نے جسے یہ خیال پیدا ہوا کہ مجھے کم حصہ ملا ہے رسول کریم ﷺ کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور کہا آپ ظلم کر رہے ہیں۔صحابہ اس بات کو گب برداشت کر سکتے تھے۔حضرت عمرؓ نے تلوار نکال لی کہ ابھی میں اس کو قتل کرتا ہوں مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسے کچھ نہ کہو۔۴۸ غیر مذاہب کے پیرؤوں دوسروں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنا بھی ایک بہت بڑی بات ہوتی ہے۔انسان جب کسی دوسرے کے جذبات کا احترام انسان کے پاس جائے تو طبعی طور پر اس سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اُس سے کوئی ایسا سلوک نہ کرے جس کے نتیجہ میں اُسے دُکھ پہنچے مگر سوال یہ ہے کہ آج کتنے لوگ ہیں جو اس کا خیال رکھتے ہیں۔ہم تو دیکھتے ہیں کہ کسی سے ذرا سا بھی کوئی ایسا کام ہو جائے جو دوسرے کے منشاء کے خلاف ہو تو وہ فوراً چڑ جاتا ہے مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ ایک دفعہ کچھ عیسائی آئے اور مسجد میں آپ سے مذہبی مسائل پر بحث کرتے رہے۔اُس روز اتوار کا دن تھا جب اُن کی عبادت کا وقت آیا تو انہوں نے کہا اب ہم مسجد سے باہر جاتے ہیں تا کہ اپنے مذہب کے مطابق اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسجدیں خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہی ہوتی ہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ، اسی جگہ عبادت کر لیں۔۴۹ یہ وہ رواداری ہے جس کا رسول کریم علیہ نے نمونہ دکھایا اور جس کے ماتحت ہمارے لئے