انوارالعلوم (جلد 17) — Page 119
انوار العلوم جلد ۱۷ 119 بھی یہی ہدایت ہے کہ اگر غیر مذہب کا کوئی پیرو ہماری مساجد میں اپنے رنگ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا چاہے تو وہ بیشک کر لے ، اس میں کسی قسم کی روک نہیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ابھی تک ہم میں اس کا پورا احساس پیدا نہیں ہوا اور ایسی اعلیٰ تعلیم کے ہوتے ہوئے ہم میں سے بعض ایسی تنگ دلی کا اظہار کرتے ہیں جو نہایت قابل تعجب ہوتی ہے۔ابھی تھوڑے دن ہوئے ایک ایسا ہی واقعہ ہوا جس سے مجھے بہت ہی تعجب ہوا اور میں نے سمجھا کہ ابھی تک ہمارے اندر غیر مذاہب والوں سے حسن سلوک کا وہ جذ بہ پیدا نہیں ہوا جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے۔سندھ کی زمینوں کے کام کے لئے ہمیں مختلف قسم کے ماہرین کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔بیشک قومی کام ہونے کی وجہ سے ہم احمدیوں کو ترجیح دیتے ہیں لیکن اگر اپنے فن میں ماہر احمدی نہ مل سکیں تو پھر مجبوراً غیر اقوام کے لوگوں کو ملازم رکھنا پڑتا ہے۔اسی سلسلہ میں ہم نے ایک سکھ کو ملازم رکھ لیا کیونکہ وہ اپنے فن میں ماہر تھا مگر مجھے تعجب ہوا کہ ایک احمدی نے مجھے لکھا کہ اگر آپ سکھ ملازم رکھنے لگے تو پھر ہمارے لئے کام کرنا مشکل ہے۔میں نے اُسے لکھا کہ اگر آپ کو یہ پسند نہیں تو پھر بے شک آپ تشریف لے جائیے ہمیں آپ کی ضرورت نہیں۔ہم تو لوگوں کو یہ سکھاتے سکھاتے تھک گئے کہ سب مذاہب والوں کو اپنا بھائی سمجھو اور کام کرنے کے لحاظ سے اگر تمہیں ایک انگریز بلکہ ایک چوہڑے کے ماتحت بھی کام کرنا پڑتا ہے تو بیشک کرو۔مگر حالت یہ ہے کہ بعض احمد یوں کو یہ بھی بُرا لگتا ہے کہ کسی سکھ کو کیوں ملازم رکھ لیا گیا ہے۔پس ابھی اپنی جماعت کے اندر بھی یہ کامل احساس پیدا کرنے میں ہم کامیاب نہیں ہوئے لیکن رسول کریم علی کی یہ حالت تھی کہ آپ کے پاس عیسائی آتے ہیں ، وہ لوگ آتے ہیں جن سے روزانہ آپ کی لڑائیاں رہتی ہیں مگر جب وہ عبادت کرنے کے لئے باہر جانے لگتے ہیں تو آپ انہیں منع کرتے ہیں اور فرماتے ہیں آپ باہر کیوں جاتے ہیں یہیں عبادت کر لیجئے۔ایک بدوی کے ساتھ ملاطفت اسی طرح ایک دفعہ ایک بدوی آیا اسے پتہ نہ تھا کہ مسجد میں پیشاب کرنا منع ہے وہ آیا اور مسجد صلى الله میں پیشاب کرنے لگ گیا۔صحابہ ڈنڈے لے کر اُٹھے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسے کچھ نہ کہو ، اس کا پیشاب رک جائے گا۔اس بیچارے کو کیا پتہ کہ یہاں پیشاب کرنا منع ہے۔آرام