انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 592 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 592

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۹۲ الموعود نمیر کمیٹی اور احرار میں کوئی سمجھوتہ ہو جائے تو حکومت کسی نہ کسی رنگ میں فیصلہ کر دے گی۔میں چاہتا ہوں کہ اس بارہ میں دونوں میں تبادلۂ خیالات ہو جائے۔کیا آپ ایسی مجلس میں شریک ہو سکتے ہیں۔میں نے کہا مجھے شریک ہونے میں کوئی عذر نہیں۔چنانچہ یہ میٹنگ سر سکند رحیات خاں کی کوٹھی پر لاہور میں ہوئی اور میں بھی اس میں شامل ہوا۔چوہدری افضل حق صاحب بھی وہیں تھے۔باتوں باتوں میں وہ جوش میں آ گئے اور میرے متعلق کہنے لگے کہ انہوں نے الیکشن میں میری مددنہیں کی اور آب تو ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ احمد یہ جماعت کو کچل کر رکھ دیں۔میں نے مسکراتے ہوئے کہا اگر جماعت احمد یہ کسی انسان کے ہاتھ سے پچلی جاسکتی تو کبھی کی کچلی جا چکی ہوتی اور اب بھی اگر کوئی انسان اسے چل سکتا ہے تو یقیناً یہ رہنے کے قابل نہیں ہے۔پھر میں نے کہا یہ بھی درست نہیں کہ میں نے الیکشن میں آپ کی مدد نہیں کی ایک الیکشن میں میں نے آپ کی مخالفت کی ہے اور ایک الیکشن میں آپ کی مدد کی ہے۔سر سکندرحیات خاں بھی کہنے لگے۔افضل حق ! تم بات بھول گئے ہو انہوں نے ایک الیکشن میں تمہاری مدد کی تھی صرف ایک الیکشن میں انہوں نے تمہاری مخالف کی ہے۔وہ کہنے لگے میری بڑی ہتک ہوئی ہے اور اب تو میں نے احمدیت کو کچل کر رکھ دینا ہے۔مسلمانان کشمیر کی جلد بازی جب اس طرح کوئی فیصلہ نہ ہوا تو گورنمنٹ آف انڈیا نے ایک والی ریاست کو اس غرض کے لئے مقرر کیا کہ کسی طرح اس جھگڑے کا وہ فیصلہ کروا دیں۔انہوں نے میری طرف آدمی بھیجے اور کہا کہ جب تک آپ دخل نہیں دیں گے یہ معاملہ کسی طرح ختم نہیں ہوگا۔میں نے کہا مجھے تو دخل دینے میں کوئی اعتراض نہیں میری تو اپنی خواہش ہے کہ یہ جھگڑا دُور ہو جائے۔آخر ان کا پیغام آیا کہ آپ دہلی آئیں۔میں دہلی گیا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب بھی میرے ساتھ تھے۔دو دفعہ ہم نے کشمیر کے متعلق سکیم تیار کی اور آخر گورنمنٹ آف انڈیا کے ساتھ فیصلہ ہوا کہ ان ان شرائط پر صلح ہو جانی چاہیئے۔اُس وقت کشمیر میں بھی یہ خبر پہنچ گئی اور مسلمانوں نے سمجھا کہ اگر ہم نے فیصلہ میں دیر کی تو تمام کریڈٹ جماعت احمدیہ کو حاصل ہو جائے گا۔چنانچہ پیشتر اس کے کہ ہم اپنی تجاویز کے مطابق تمام فیصلے کروا لیتے مسلمانوں نے اُن سے بہت کم مطالبات پر دستخط کر دیئے۔