انوارالعلوم (جلد 17) — Page 564
انوار العلوم جلد کا ۵۶۴ الموعود میں مارے گئے ہیں۔اس سے ایک ہفتہ پہلے ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کی والدہ اور اُن کے والد قادیان میں آئے تھے۔میں نے گھر میں اُن کی والدہ کو دیکھا تھا اور باہر جبکہ میں ایک خطبہ نکاح پڑھا رہا تھا، میں نے اُن کے والد کو دیکھا تھا وہ اُس وقت میرے سامنے ہی بیٹھے تھے اور اُس وقت اتنے کمزور اور منحنی تھے کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب تو بتاتے ہیں کہ اُن کی عمر اُس وقت پینسٹھ سال تھی مگر مجھے وہ پچھتر سال کے نظر آتے تھے اور بہت ہی ضعیف ہو چکے تھے۔سات آٹھ دن کے بعد جب میں نے سُنا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب فوت ہو گئے ہیں تو مجھے یہ خبر سُن کر شدید صدمہ ہوا۔مجھے اُس وقت یہ معلوم نہیں تھا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے علاوہ اُن کے اور بھی لڑکے ہیں۔میں سمجھتا تھا کہ وہ اُن کے اکلوتے بیٹے ہیں۔بہر حال میں نے جب اس خبر کو سنا تو مجھے بہت تکلیف ہوئی کہ اس عمر میں اکلوتے بچے کی وفات کا انہیں بہت ہی صدمہ ہوا ہو گا۔چنانچہ میں کھانا تو کھاتا جاؤں مگر بار بار دل سے دعا نکلے کہ خدایا! وہ زندہ ہی ہوں۔پھر میں اپنے دل کو سمجھاؤں کہ کیا مردے بھی کبھی زندہ ہو سکتے ہیں۔مگر باوجود اس علم کے کہ مُردے زندہ نہیں ہو سکتے ، دل سے بار بار یہی دعا اُٹھے کہ خدایا! وہ زندہ ہی ہوں۔یہی کیفیت مجھ پر طاری رہی۔رات کو جب میں سویا تو میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے پاس آیا ہے اور وہ آ کر کہتا ہے کہ ڈاکٹر مطلوب خاں چند دن فوت رہنے کے بعد زندہ ہو گئے ہیں۔دوسرے دن پھر میں نے اسی مجلس میں ذکر کیا کہ ہمارے نزدیک تو مُردہ زندہ نہیں ہو سکتا مگر ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے متعلق مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہو گئے ہیں۔معلوم نہیں اس خواب کا کیا مطلب ہے ، حالانکہ اُن کے متعلق تو اطلاع بھی آچکی ہے کہ وہ فوت ہوگئے ہیں۔ماسٹر محمد نذیر خاں صاحب کو یہ خبر مرزا معظم بیگ صاحب نے بتائی تھی جو آجکل گلگت میں قونصل خانہ کے ہیڈ کلرک ہیں اور اُن دنوں وہ بغداد میں تھے اور بصرہ کے راستے واپس ہندوستان آئے تھے انہیں بصرہ ہسپتال سے معلوم ہوا تھا کہ ڈاکٹر مطلوب خان صاحب مارے گئے ہیں اور انہوں نے ہی ماسٹر نذیر خاں صاحب کو اس کی اطلاع دی۔ماسٹر صاحب نے میاں بشیر احمد صاحب یا میاں شریف احمد صاحب سے اس کا ذکر کیا اور اُنہوں نے یہ بات میرے آگے بیان کی لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی تھی کہ