انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 563

انوار العلوم جلد ۷ ۵۶۳ الموعود دیوار گرائے جانے کی خبر (۹) پھر میں ابھی بچہ ہی تھا کہ ہمارے شرکاء نے جو خب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شدید مخالف تھے ، مسجد کے سامنے ایک دیوار کھڑی کر کے اُس کا دروازہ بند کر دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کئی دفعہ گھر میں پردہ کرا کے لوگوں کو مسجد میں لاتے اور کئی لوگ اُو پر سے چکر کاٹ کر اور سخت تکلیف اُٹھا کر آتے۔اُس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب لوگوں کو دعا کرنے کے لئے کہا اور مجھے بھی دعا کا ارشاد فرمایا۔میری عمر اس وقت پندرہ سال کی تھی میں نے دعا کی تو مجھے ایک رؤیا ہوا جس میں میں نے دیکھا کہ میں بڑی مسجد سے آ رہا ہوں کہ دیوار گرائی جا رہی ہے۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفہ اسیح الاوّل بھی تشریف لا رہے تھے۔میں نے اُن سے کہا کہ دیکھیں دیوار گرائی جا رہی ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت ہے پہلے ایک مقدمہ ہوا جس میں ناکامی ہوئی پھر دوسرا مقدمہ ہوا اور اُس میں نا کامی ہوئی آخر تیسرے مقدمہ میں کامیابی ہوئی اور عدالت نے دیوار گرائے جانے کا حکم دے دیا۔مسجد اقصیٰ میں حضرت خلیفہ اول اُس روز درس دے رہے تھے۔جب درس ختم ہوا اور میں گھر کو چلا تو دیکھا کہ دیوار گرائی جا رہی ہے۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو حضرت خلیفہ اول آ رہے تھے۔میں نے اُن سے کہا کہ دیکھیں دیوار گرائی جارہی ہے۔گویا جس طرح میں نے خواب میں نظارہ دیکھا تھا ویسا ہی وقوع میں آ گیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے میں نے یہ خواب حضرت خلیفہ اول کو سُنایا ہوا تھا۔چنانچہ آپ نے اُس وقت میری بات سُن کر فرمایا لومیاں تمہاری خواب پوری ہوگئی۔یہ دیوار اس مقام پر تھی جہاں آجکل محاسب کا دفتر ہے۔ڈاکٹر مطلوب خان صاحب کے (۱۰) پھر پچھلی جنگ کا واقعہ ہے۔ہم اُن دنوں حضرت اماں جان کے گھر تینوں بھائی کھانا متعلق ایک حیرت انگیز رویا کھایا کرتے تھے۔اُس وقت ہما را دستور یہ تھا کہ ہم ایک وقت کا کھانا اُن کے ہاں کھایا کرتے تاکہ اُن کا دل بہلا ر ہے۔جب ہم تینوں بھائی وہاں اکٹھے تھے تو میاں شریف احمد صاحب نے (جن سے ماسٹر محمد نذیر خاں صاحب نے یہ بات بیان کی تھی ) ذکر کیا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے متعلق یہ اطلاع آئی ہے کہ وہ جنگ