انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 473 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 473

انوار العلوم جلد ۷ ۴۷۳ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) سیاسیات کا تعلق ہے ہم ہندوستان کی کسی مجلس میں بھی شامل نہیں ہو سکتے اور پنجاب میں جو دو پارٹیاں اس وقت ہیں ان میں سے بھی ہم کسی کے ساتھ نہیں مل سکتے۔کیونکہ ایک تو ان میں سے بد اصول ہے اور دوسری بے اصول۔ایک کا پروگرام تو ہے مگر غلط ہے اور وہ ابن الوقتی کا ثبوت دے رہی ہے اور دوسری کا کوئی پروگرام ہے ہی نہیں۔اور سرکاری حکام کے اخلاق اس کی وجہ سے بگڑ رہے ہیں میں ان لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ حکام کو آزا د ر ہنے دیں۔ہمارے صوبہ کیلئے وہ دن بہت بُرا ہوگا جب سرکاری حکام کو سیاسی پارٹیوں میں گھسیٹا جائے گا۔جو سرکاری افسر احمدی ہیں اُن کو میرا حکم ہے کہ وہ کسی پارٹی میں شامل نہ ہوں اور جو شامل ہوگا وہ بددیانت ہوگا اور بد دیانتی کی روٹی کھانے والا ہوگا۔وہ جو سرکاری ملازمت میں ہوتے ہوئے زمیندارہ لیگ یا کسی اور سیاسی پارٹی کی مدد کرے گا یا مخالفت کرے گا وہ بد دیانتی کرنے والا ہوگا۔اُن کے لئے نہ تو کسی سیاسی پارٹی کی مدد کرنا جائز ہے اور نہ مخالفت کرنا۔ملازم کیلئے صرف اُس حکم کی تعمیل کرنی ضروری ہے جو اُ سے سرکاری طور پر ملے۔اگر کسی سرکاری افسر سے کوئی کہے کہ کسی سیاسی پارٹی کیلئے چندہ کر کے دو تو اسے چاہئے کہ ایسا کہنے والے سے کہے کہ مجھے لکھ کر یہ حکم دے دیں۔اور اگر کوئی ایسا حکم دے دے تو اسے پبلک میں شائع کر دے۔سرکاری ملازم کا یہ کام ہرگز نہیں کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کی مدد کرے یا اُس کی مخالفت کرے۔پس احمدی سرکاری ملازم کسی پارٹی کی حمایت نہ کریں اور نہ ہی کسی کی مخالفت کریں۔اسی طرح افراد جماعت بھی کسی پارٹی میں شامل نہ ہوں۔باقی رہا چندہ دینے کا سوال تو اگر افسر مجبور کر کے چندہ لینا چاہیں تو دہن سگ بہ لقمہ دوختہ بہ پر عمل کرتے ہوئے کوئی معمولی سی رقم دے کر چھٹکارا حاصل کر لیں۔میرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اِس طرح کرنا چاہے تو ہم اسے روکتے نہیں۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اب دنیا پر ایسا نازک وقت آ رہا ہے کہ ہندوؤں ، مسلمانوں اور سکھوں اور ہندوستان کی دوسری قوموں میں جو سیاسی جھگڑے ہیں وہ سب ختم ہو جانے چاہئیں اور اسی طرح انگریزوں اور ہندوستانیوں میں جو جھگڑے ہیں وہ بھی ختم کر دینے کا وقت آ گیا ہے۔اس سے پہلے ان جھگڑوں میں زیادہ خطرہ کی بات نہ تھی مگر اب ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ جو لوگ الہامی کتابوں سے فائدہ اُٹھانے کے عادی نہیں ہیں اگر تہران کا نفرنس کے حالات ہی