انوارالعلوم (جلد 17) — Page 472
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۷۲ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) چوہدری صاحب نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کی جماعت کے فلاں آدمی کو زمیندارہ لیگ کی سیکرٹری شپ پیش کی گئی تھی مگر اُس نے انکار کر دیا پھر آپ لوگ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کی جماعت حکومت کی وفادار ہے۔تو سرکاری حکام کو سیاسیات میں گھسیٹنے سے ان کے اخلاق ضرور خراب ہوتے ہیں۔پھر اس پارٹی میں ایک نقص یہ بھی ہے کہ اس کا اپنا کوئی قومی پروگرام نہیں۔اس میں ہندو بھی ممبر ہیں جو ہندوؤں کے نمائندہ ہیں ، سکھ بھی ہیں جو سکھوں کے نمائندے ہیں اور ان کی پارٹیوں کے اپنے مقررہ پروگرام ہیں اور اس پارٹی کو ان سب کے پروگراموں کو سمجھ کر چلانا پڑتا ہے۔اس پارٹی کا اپنا کوئی پروگرام نہیں۔اس میں جو مسلمان ممبر ہیں وہ پہلے مسلم لیگ میں تھے مگر اب اُس میں نہیں رہے اور ان کا اپنا کوئی پروگرام ہے نہیں۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب یہ پارٹی ٹوٹی تو ان لوگوں کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا سوائے اس کے کہ جہاں کسی کے سینگ سمائیں۔شامل ہو جائے اور یا پھر نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے “ والی حالت ان کی ہوگی۔میں سندھ گیا تو ریلوے سٹیشن پر ایک ہند وسیٹھ نے مجھ سے ملنے کی خواہش کی۔اُس زمانہ میں وہاں خاں بہا در اللہ بخش وزیر اعظم بنے تھے۔میں نے باتوں باتوں میں اُن سے دریافت کیا کہ ٹھا کر صاحب! آپ کسی کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔میرے اس سوال پر وہ مسکرائے اور جواب دیا کہ اصل بات یہ ہے کہ جب سر غلام حسین کی حکومت تھی ہم اُس کے ساتھ تھے اب اللہ بخش کی حکومت ہے تو اُس کے ساتھ ہیں۔مسلمانوں کے متعلق تو میرا پہلے سے یہ تجربہ تھا کہ ان میں سے بہت سے لوگ اس اصل پر چلتے ہیں کہ جس کی حکومت بنی اُسی کے ساتھ ہو گئے مگر ہندوؤں کے متعلق ایسا نہ سمجھتا تھا مگر ان کی بات سن کر مجھے معلوم ہوا کہ ان میں بھی ایسے لوگ ہیں۔ان کا جواب سن کر میں نے کہا کہ ٹھا کر صاحب ! پھر خواہ غلام حسین کی وزارت ٹوٹے اور خواہ اللہ بخش کی ، آپ کی وزارت کبھی نہ ٹوٹے گی۔تو ایسے لوگ اپنی وزارت رکھنا چاہتے ہیں کوئی اصول ان کا نہیں ہوتا۔پس اگر یہی حالات رہے جو اس وقت پنجاب میں ہیں تو اخلاقی حالت بہت گر جائے گی۔اگر زمیندارہ لیگ کسی وقت ٹوٹی تو ہندو اور سکھ ممبر تو اپنی اپنی پارٹیوں میں جا کر شامل ہو جائیں گے مگر مسلمان ممبروں کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو گا۔مسلم لیگ کو تو یہ لوگ پہلے جواب دے چکے ہیں اور دوسری کوئی ایسی مجلس ہے نہیں جس میں یہ شامل ہوسکیں۔جہاں تک