انوارالعلوم (جلد 17) — Page 465
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۶۵ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) میں سے ہر ایک کا زمانہ تعلیم میں ۲۵ روپیہ ماہوار خرچ رکھا جائے تو قریباً پندرہ ہزار روپیہ سالانہ خرچ ان پر ہوگا۔مگر اس خرچ کو اُٹھانے کے نتیجہ میں پچاس نئے حلقے تبلیغ کے کھل جائیں گے یہ اتنی عظیم الشان چیز ہے کہ یہ خرچ اُس کے مقابلہ میں کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔اور امید ہے کہ مغربی افریقہ میں کچھ عرصہ کے بعد مقامی جماعتیں مبلغین کا خرچ برداشت کرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہیں یہاں بھی ایسا ہو سکے گا۔اور ان مبلغین کی کوششوں سے جب جماعتیں ترقی کریں گی تو وہ بوجھ بھی برداشت کر سکیں گی۔میری تجویز ہے کہ جن جماعتوں میں یہ مبلغ لگائے جائیں اُن کا موجودہ چندہ نوٹ کر لیا جائے اور پھر اس میں جو اضافہ ہوتا جائے اُس کا آدھا اُن ہی جماعتوں کو مقامی تبلیغ کے کام کو وسیع کرنے کیلئے دے دیا جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ نوجوان بہت جلد اپنے نام زندگیاں وقف کرنے کیلئے پیش کریں گے۔مجھے افسوس ہے کہ مختلف علاقوں کے ایسے نوجوانوں نے ابھی تک زندگیاں وقف نہیں کیں جو ان علاقوں کی زبانیں جانتے ہوں۔اب ایسے علاقوں کی جو جماعتیں ملاقات کیلئے آتی رہی ہیں میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ اُنہوں نے واقفین میں کتنے آدمی دیئے ہیں ؟ اور وہ اس سوال پر شرمندہ ہو جاتی رہی ہیں۔مثلاً صوبہ سرحد میں ایسے ہی نوجوان کا میابی سے تبلیغ کر سکتے ہیں جو پشتو اور فارسی جانتے ہوں۔صوبہ سرحد میں اگر صحیح رنگ میں تبلیغ کی جائے تو بہت کامیابی کی امید ہو سکتی ہے۔وہاں بعض لوگ علمی خاندانوں کے داخلِ سلسلہ ہوئے ہیں اور بعض اچھے زمینداروں میں سے ہوئے ہیں۔اعلیٰ طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صوبہ سرحد میں جس نسبت سے جماعت میں داخل ہوئے ہیں اُس کے لحاظ سے پنجاب میں بہت کم ہیں۔یہاں بالعموم درمیانی طبقہ کے لوگ جماعت میں شامل ہوئے ہیں۔بڑے بڑے خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بہت کم ہیں۔شاید ہزار دو ہزار میں ایک ہو۔مگر صوبہ سرحد میں جماعت کی نسبت کے لحاظ سے اعلیٰ خاندانوں یا بڑی بڑی جائدادیں رکھنے والے یا اُن کے رشتہ دار جو داخل ہوئے ہیں اُن کی نسبت میرے خیال میں آٹھ دس فیصدی ہے۔پس میں اس صوبہ میں تبلیغ کو خاص اہمیت دیتا ہوں مگر اب تک اس صوبہ سے ہمیں ایسے نو جوان نہیں مل سکے جو دینی تعلیم حاصل کر کے وہاں تبلیغ کا کام کریں۔اب سید عبد اللطیف صاحب شہید کے خاندان کا ایک بچہ