انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 466 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 466

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۶۶ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) آیا ہے اور ایک اور بھی پڑھ رہا ہے۔اگر یہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد دنیا کے کاموں میں نہ لگ گئے تو امید ہے ان سے تبلیغ کے کام میں مدد مل سکے گی۔اس صوبہ کے آدمی وہاں کامیابی سے تبلیغ کر سکتے ہیں۔پنجابیوں کے اور ان کے تمدن میں بہت فرق ہے اس لئے پنجابی مبلغ وہاں زیادہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔اسی طرح صوبہ سندھ سے بھی بہت کم طالب علم آتے ہیں جو آئے بھی ہیں وہ یا تو بیچ میں ہی تعلیم کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں اور یا اگر پوری تعلیم حاصل کی تو پھر دُنیاوی کاموں میں لگ گئے ہیں تبلیغ کے کام کیلئے زندگیاں وقف کرنے والے ان صوبوں سے بہت کم آئے ہیں۔اسی طرح صوبہ بہار کے دوست جب ملنے آئے تو اُنہوں نے مبلغ مانگا اور میں نے اُن سے یہی سوال کیا کہ آپ لوگوں نے اپنے صوبہ سے کتنے طالب علم بھیجے ہیں کہ انہیں تعلیم دے کر و ہیں تبلیغ کیلئے بھیجا جا سکے۔بنگال سے بھی کوئی طالب علم نہیں آیا۔صوفی مطیع الرحمن صاحب نے زندگی وقف کی مگر تعلیم حاصل کرنے کے بعد۔یوپی کا خانہ بھی خالی ہے۔اگر ذوالفقار علی خاں صاحب کو علیحدہ رکھا جائے تو صوبہ یوپی کا خانہ بالکل خالی ہے۔بمبئی کے صوبہ سے بالکل کوئی طالب علم نہیں آیا۔مالا بار نے بے شک ہمت دکھائی ہے گو وہاں جماعت کم ہے مگر وہاں سے آدمی ملتے رہے ہیں اور مل رہے ہیں تو ہر صوبہ سے ایسے طالب علم یہاں آنے چاہئیں جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے صوبوں میں جا کر کام کر سکیں۔ہمارے دوستوں کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ یہ کام ہم نے ہی کرنا ہے آسمان سے فرشتے آ کر نہیں کریں گے اور احمدیوں نے ہی کرنا ہے۔یہ کام ایسا نہیں کہ غیر قوموں کے آدمی اس کیلئے ملازم رکھ لئے جائیں۔صوبہ پنجاب نے قربانی کی ہے مگر بعض اضلاع پنجاب کے بھی خالی ہیں۔مثلاً اضلاع فیروز پور اور منٹگمری ہیں ان اضلاع کے دوست جب ملنے آئے تو اُن سے بھی میں نے یہی سوال کیا کہ انہوں نے کتنے آدمی دیئے ہیں۔پس میں پھر تحریک کرتا ہوں کہ دوست زندگیاں وقف کریں اور اپنے نام پیش کریں۔ہر علاقہ کے لوگ ایسے آدمی دیں۔یہ ٹھیک نہیں کہ دوسرے علاقوں کے لوگ ان کے وہاں جا کر کام کریں۔ایک علاقہ کے لوگ جب مبلغ مانگتے ہیں تو اُن کا فرض ہے کہ وہ ایسے آدمی دیں جن