انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 392

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۹۲ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں اتنے فیصدی لوگ فلاں عیب میں مبتلاء ہیں۔بے شک اگر اِن لوگوں کا نام ظاہر کیا جائے گا تو شریعت کے خلاف ہو گا لیکن بغیر نام کی صراحت کے ایک عام ریکارڈ کے ذریعہ یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ کن کن اخلاق کی نوجوانوں میں کمی ہے اور کن امور کی طرف ہمیں زیادہ توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔مثلاً سچائی ہے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہر مجلس میں کتنے فیصدی نو جوان سچائی اختیار کرنے میں اعلیٰ نمونہ نہیں دکھا رہے۔یا اشاعتِ فحش ایک جرم ہے ہمیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کتنے لوگ ہمارے اندر موجود ہیں۔بہر حال اخلاق کی نگہداشت خدام الاحمدیہ کا اہم فرض ہے اور ہر رکن کے لئے اس بات کا سمجھنا ضروری ہے کہ قومی جرم کا چھپانا ایک خطر ناک جرم ہے۔جس طرح فردی جرم کو ظاہر کرنا جرم ہے۔قومی جرم سے مراد در حقیقت دو قسم کے جرائم ہوتے ہیں۔اول وہ جرم جو قوم کے خلاف ہوتے ہیں اور جن کا قومی لحاظ سے شدید نقصان ہوتا ہے۔دوسرے وہ افعال جو کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کسی دوسرے پر قاتلانہ حملہ کرنے کے متعلق کوئی بات کر رہا ہو اور اُس کا علم کسی اور شخص کو ہو جائے تو یہ فردی جرم نہیں ہو گا بلکہ قومی جرم ہوگا کیونکہ اس کا نقصان قوم کے ایک فرد کو پہنچنے کا امکان ہے۔اس صورت میں اگر وہ اخفاء سے کام لیتا ہے اور دوسرا شخص حملہ کر کے قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ جس نے بات کو سنا تھا اور جسے اس سازش کا پہلے سے علم ہو چکا تھا مگر اُس نے ظاہر نہیں کیا وہ بھی اس قتل میں شریک سمجھا جائے گا۔اگر وہ وقت پر بتا دیتا تو اصلاح کی جاسکتی تھی لیکن چونکہ اُس نے وقت پر نہ بتایا اس لئے وہ بھی قاتل سمجھا جائے گا اور شریعت کے نزدیک مجرم ہو گا۔پس قومی جرم سے مراد وہ جرم ہیں جن کا ضرر کسی دوسرے انسان کو پہنچ سکتا ہوا اور فردی جرم سے مراد وہ جرم ہیں جن کا ضرر کسی دوسرے کو نہ پہنچتا ہو یا کسی کے ایسے گزشتہ جرم کا ذکر کرنا جو خواہ اپنی ذات میں قومی جرم ہی ہو لیکن وہ حال سے منقطع ہو چکا ہو وہ بھی فردی جرم ہی سمجھا جائے گا۔مثلاً فرض کرو ایک شخص نے آج سے دس سال پہلے کوئی چوری کی تھی اب چوری کرنا ایک قومی جرم ہے لیکن اگر کوئی شخص کسی کے دس سالہ گزشتہ چوری کے واقعہ کا ذکر کرتا ہے تو اس چوری کو قومی جرم نہیں بلکہ فردی جرم قرار دیا جائے گا۔ایسی