انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 393

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۹۳ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں صورت میں ضروری ہوگا کہ وہ دوسرے کے فعل پر پردہ ڈالے اور اس کا لوگوں میں اظہار نہ کرے۔دس سال پہلے اگر اُس نے کسی کی پنسل چرائی تھی یا ایسی ہی کوئی اور چیز چرالی تھی تو گو چوری کے لحاظ سے اس کا یہ جرم کچھ کم نہیں تھا مگر چونکہ اس پر ایک لمبا عرصہ گزر چکا ہے اس لئے اب اس کا اظہار کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔اب ایسی چوری کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ انسان تو بہ کرے۔اپنے گزشتہ قصور پر استغفار کرے اور آئندہ کے لئے عہد کرے کہ وہ ایسا فعل کبھی نہیں کرے گا۔بہر حال اتنا لمبا عرصہ گزرنے پر اس کا یہ فعل قومی جرم نہیں رہا بلکہ ایک فردی جرم بن گیا ہے۔پس ہر وہ جرم جس کا ازالہ نہیں ہو سکتا یا جس فعل کے دوبارہ ہونے کا امکان نہیں وہ فردی جرم ہے۔اور ہر وہ جرم جس کا ازالہ ہو سکتا ہے اور جس کا اثر قوم پر پڑتا ہے وہ قومی جرم ہے۔پس قومی اور فردی جرائم میں جو فرق ہے وہ بار بار نو جوانوں کو بتانا چاہئے تا کہ ایک طرف جہاں لوگوں میں تجسس کا مادہ پیدا نہ ہو وہاں دوسری طرف لوگوں کے اخلاق کی نگرانی ہو سکے اور معلوم ہو سکے کہ کون لوگ اخلاقی حصوں پر عمل کرنے میں سستی سے کام لے رہے ہیں۔اگر خدام الاحمدیہ کی طرف سے اس رنگ میں اصلاح اخلاق کی کوشش کی جاتی تو میرے سامنے یہ ذکر نہ آتا کہ قادیان میں مخفی طور پر بعض لوگ گراں قیمت پر اشیاء فروخت کر رہے ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ قادیان میں ایسا ہوتا ہے یا نہیں ہوتا لیکن اگر ہوتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدام الاحمدیہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں بالکل ناکام رہے ہیں۔ان کے نمائندے ہر محلہ میں موجود ہیں، ہر گھر میں موجود ہیں اور وہ اگر چاہتے تو اس نقص کا آسانی کے ساتھ ازالہ کر سکتے تھے لیکن چونکہ انہوں نے اِس طرف توجہ نہیں کی اس لئے میں سمجھتا ہوں اس کی ذمہ داری خدام الاحمدیہ کے کارکنوں پر عائد ہوتی ہے کہ انہوں نے یہ باتیں بار بار اپنے نمائندوں کے سامنے نہیں رکھیں ورنہ اس سستی اور غفلت کا ان کی طرف سے مظاہرہ نہ ہوتا۔تیسری چیز لڑائی جھگڑا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ یہ عادت بھی ابھی برابر جاری ہے۔ذرا سی بات ہوتی ہے لیکن اس پر آپس میں لڑائی شروع ہو جاتی ہے۔یہ بھی ایک خطر ناک نقص ہے جس کا ازالہ ضروری ہے۔بسا اوقات انسان ہنسی مذاق میں کوئی بات کہ رہا ہوتا ہے مگر دوسرا اس مذاق کو برداشت نہ کر کے لڑائی جھگڑے کی صورت پیدا کر دیتا ہے حالانکہ ایسے حالات میں