انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 287

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۸۷ زندگی وقف کرنے کی تحریک فرمایا ہوا تھا اور طب میں تو ماہر ہی تھے آپ نے اُن میں سے ایک شخص کے چہرے کی طرف غور سے دیکھا اور چونکہ سمندری کنارہ کے رہنے والوں میں قوت باہ کی کمی ہوتی ہے اس لئے آپ نے اُسے کہا مجھے تمہاری شکل سے معلوم ہو گیا ہے کہ تم میں قوت باہ کی کمزوری ہے۔وہ کہنے لگا آپ کو کس طرح پتہ لگا ؟ آپ نے کہا میں تمہارے چہرے سے تاڑ گیا ہوں کیونکہ میں طبیب ہوں۔اُس نے کہا آپ بالکل درست فرماتے ہیں۔مہربانی فرما کر کوئی نسخہ لکھ دیں آپ نے ایک نسخہ لکھ دیا۔فرماتے تھے اُس ایک نسخے کا لکھنا تھا کہ یوں معلوم ہوا جیسے سب جہاز والے قوت باہ کے مریض ہیں۔ہر ایک نے اپنا اپنا حال آپ سے بیان کرنا شروع کر دیا۔کچھ اور امراض کے مریض بھی نکل آئے اور آپ نے ہر ایک کو علاج بتایا۔اس کا ایسا اثر ہوا کہ یا تو انہوں نے آپ کا بستر اُٹھا کر پھینکا تھا اور یا درمیان میں ایک بڑی سی جگہ بنا کر بڑی عزت سے انہوں نے آپ کا بستر بچھا دیا۔پھر کوئی کھانا پکا کر دیتا ، کوئی پاخانہ میں لوٹا رکھ دیتا، کوئی پانی پلانے کے لئے موجود ہوتا ، کوئی دبانے کے لئے پاس بیٹھا رہتا اس طرح آپ فرماتے کہ میں ڈیک میں اتنے آرام سے پہنچا کہ سیکنڈ کلاس میں بھی اتنا آرام میسر نہیں آ سکتا تھا۔تو طب بھی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔اگر کوئی شخص با قاعدہ علم طب حاصل نہیں کر سکتا تو وہ چھوٹی موٹی باتیں تو یا درکھ سکتا ہے۔عربی میں مثل ہے مَالَا يُدْرَكُ كُلُّهُ لَا يُتْرَكُ كُلُّه۔جو چیز ساری حاصل نہیں کی جاسکتی وہ ساری چھوڑ نی بھی تو نہیں چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ طب میں سرجری نہیں اسی طرح بعض اور تحقیقاتوں میں وہ ڈاکٹری سے بہت پیچھے ہے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ مخلوق کو ابھی طب سے جس قدر فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے وہ فائدہ ابھی تک نہیں پہنچایا گیا۔اگر ہمارے مبلغ طب سیکھ لیں تو انہیں روٹی مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔وہ جہاں جائیں گے لوگ انہیں عزت واحترام کی نگاہوں سے دیکھیں گے اور ان کی خدمت کر کے خوش ہوں گے۔پس یہ بھی ایک ذریعہ ہے جس سے ہماری جماعت کے دوست تبلیغ کر سکتے ہیں۔اسی طرح تبلیغ کا ایک یہ بھی ذریعہ ہے کھاتے پیتے لوگ اپنی اولا دوں کو خود خرچ دیں اور ان کے ذریعہ تبلیغ کرائیں۔حقیقت یہ ہے کہ قوم اُسی وقت تبلیغ میں کامیاب ہوسکتی ہے جب وہ اپنے گھروں سے۔اُسی طرح نکل کھڑی ہو جس طرح بارش کے بعد زمین میں سے کیڑے مکوڑے نکلنے شروع