انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxix
انوار العلوم جلد کا ۲۲ تعارف کتب ہی ہے جس نے اسلام کی حفاظت اور امداد کا بیڑہ اُٹھایا ہے پس اس پہلو سے جماعت احمدیہ کی زمہ داریاں بہت اہم ہیں۔اس تقریر میں حضور نے دعوئی مصلح موعود کو دُہراتے ہوئے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا ” میری تو ایک ہی خواہش ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں جان دے دوں اور محمد ﷺ کی کھوئی ہوئی وراثت آپ کے حضور پیش کر دوں۔میں نے بارہا اپنے مولیٰ سے التجا کی ہے اور ہمیشہ کرتا رہتا ہوں کہ الہی ! اگر میری مٹی بھی کسی ذلیل ترین مقام پر پھینک دینے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کچھ خدمت ہو سکتی ہے تو میری کسی لحاظ سے بھی کوئی پرواہ نہ کر اور محمد عے کے مقام کی عزت کے لئے جو بھی قربانی کی جانی ضروری ہو وہ مجھ سے لے اور مجھے توفیق دے۔(۲۰) لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات حضرت مصلح موعود نے یہ تربیتی تقریر مؤرخہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۴ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر خواتین کی جلسہ گاہ میں ارشاد فرمائی۔اس تقریر میں حضور نے درج ذیل امور پر روشنی ڈالی۔۔عربی زبان کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں ہر نام کا کوئی نہ کوئی معنی ہوتا ہے۔اس کی وضاحت میں آپ نے لفظ اُم اور کوا“ کے معنوں پر روشنی ڈالی ہے اور بتایا کہ عربی زبان کی یہ خصوصیت کسی دوسری زبان میں نہیں پائی جاتی۔انسانی پیدائش کا مقصد اور غرض و غایت پر روشنی ڈالی اور اس تعلق میں لفظ ”انسان“ کے معنوں کی وضاحت فرمائی ہے جس سے انسان کو اُس کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے“ کی تفسیر کرتے ہوئے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان فرمائے ہیں کہ :۔,, قوم میں جنت ماؤں کے ذریعہ سے ہی آتی ہے۔