انوارالعلوم (جلد 17) — Page 215
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۱۵ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں تسلیم نہ کرنا پڑا ہو کہ واقعہ میں اسلام کی تعلیم پر کوئی حقیقی اعتراض نہیں ہوسکتا۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جو میرے شامل حال ہے ورنہ میں نے دنیوی علوم کے لحاظ سے کوئی علم نہیں سیکھا لیکن میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ خدا نے مجھے اپنے پاس سے علم دیا اور خود مجھے ہر قسم کے ظاہری اور باطنی علوم سے حصہ عطا فرمایا۔میں ابھی بچہ ہی تھا کہ میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک گھنٹی بجی ہے اور اُس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوئی ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک تصویر کے فریم کی صورت اختیار کر گئی۔پھر میں نے دیکھا کہ اُس فریم میں ایک تصویر نمودار ہوئی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ تصویر بلنی شروع ہوئی اور پھر یکدم اُس میں سے کو دکر ایک وجود میرے سامنے آ گیا اور اُس نے کہا میں خدا کا فرشتہ ہوں اور تمہیں قرآن کریم کی تفسیر سکھانے کے لئے آیا ہوں۔میں نے کہا سکھاؤ۔تب اُس نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھانی شروع کر دی وہ سکھاتا گیا، سکھاتا گیا اور سکھاتا گیا یہاں تک کہ جب وہ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين لا تک پہنچا تو کہنے لگا آج تک جتنے مفسر گزرے ہیں اُن سب نے صرف اس آیت تک تفسیر لکھی ہے لیکن میں تمہیں اس کے آگے بھی تفسیر سکھاتا ہوں۔چنانچہ اُس نے ساری سورۃ فاتحہ کی تفسیر مجھے سکھا دی۔اس رؤیا کے معنی در حقیقت یہی تھے کہ فہم قرآن کا ملکہ میرے اندر رکھ دیا گیا ہے۔چنانچہ یہ ملکہ میرے اندر اِس قدر ہے کہ میں یہ دعویٰ کرتا ہوں اور جس مجلس میں چا ہوئیں یہ دعویٰ کرنے کے لئے تیار ہوں کہ سورۃ فاتحہ سے ہی میں تمام اسلامی علوم بیان کرسکتا ہوں۔میں ابھی چھوٹا ہی تھا سکول میں پڑھا کرتا تھا کہ ہمارے سکول کی فٹ بال ٹیم امرتسر کے خالصہ کالج کی ٹیم سے کھیلنے کے لئے گئی۔مقابلہ ہوا اور ہماری ٹیم جیت گئی۔اس پر با وجود اُس مخالفت کے جو مسلمان ہماری جماعت کے ساتھ رکھتے ہیں چونکہ ایک رنگ میں مسلمانوں کی عزت افزائی ہوئی تھی اس لئے امرتسر کے ایک رئیس نے ہماری ٹیم کو چائے کی دعوت دی۔جب ہم وہاں گئے تو مجھے تقریر کرنے کے لئے کھڑا کر دیا گیا۔میں نے اس تقریر کے لئے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔جب مجھے کھڑا کیا گیا تو معا مجھے یہ رویا یاد آ گیا اور میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اے خدا! تیرا فرشتہ مجھے خواب میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر سکھا گیا تھا۔آج