انوارالعلوم (جلد 17) — Page 214
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۱۴ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں میری زیادہ لمبی عمر نہیں ہو سکتی۔اسی دوران میں میری آنکھیں دُکھنے آ گئیں اور اس قدر دکھیں کہ میری ایک آنکھ قریباً ماری گئی۔چنانچہ اس میں سے مجھے بہت کم نظر آتا ہے۔پھر جب میں اور بڑا ہوا تو متواتر چھ سات ماہ تک مجھے بخار آتا رہا۔اور سل اور دق کا مریض مجھے قرار دے دیا گیا۔ان وجوہ سے میں باقاعدہ پڑھائی بھی نہیں کر سکتا تھا۔لاہور کے ہی ماسٹر فقیر اللہ صاحب جن کی مسلم ٹاؤن میں کوٹھی ہے ہمارے سکول میں حساب پڑھایا کرتے تھے۔انہوں نے ایک دفعہ میرے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت کی کہ پڑھنے نہیں آتا اور ا کثر غائب رہتا ہے۔میں ڈرا کہ شاید حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ناراض ہوں گے مگر آپ فرمانے لگے ماسٹر صاحب ! اس کی صحت کمزور رہتی ہے ہم اتنا ہی شکر کرتے ہیں کہ یہ کبھی کبھی مدرسہ میں چلا جاتا ہے اور کوئی بات اس کے کانوں میں پڑ جاتی ہے زیادہ زور اس پر نہ دیں۔بلکہ مجھے یاد ہے آپ نے یہ بھی فرمایا ہم نے حساب سکھا کر اسے کیا کرنا ہے۔کیا ہم نے اس سے کوئی دُکان کرانی ہے۔قرآن اور حدیث پڑھ لے گا تو کافی ہے۔غرض میری صحت ایسی کمزور تھی کہ دنیا کے علم پڑھنے کے میں بالکل نا قابل تھا میری نظر بھی کمزور تھی میں پرائمری مڈل اور انٹرنس کے امتحان میں فیل ہوا ہوں کسی امتحان میں پاس نہیں ہوا۔مگر خدا نے میرے متعلق خبر دی تھی کہ میں علوم ظاہری اور باطنی سے پر کیا جاؤں گا۔چنانچہ با وجود اس کے کہ ڈ نیوی علوم میں سے کوئی علم میں نے نہیں پڑھا اللہ تعالیٰ نے ایسی عظیم الشان علمی کتابیں میرے قلم سے لکھوائیں کہ دنیا ان کو پڑھ کر حیران ہے اور وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہے کہ اس سے بڑھ کر اسلامی مسائل کے متعلق اور کچھ نہیں لکھا جا سکتا۔ابھی تفسیر کبیر کے نام سے میں نے قرآن کریم کی تفسیر کا ایک حصہ لکھا ہے اسے پڑھ کر بڑے بڑے مخالفوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ اِس جیسی آج تک کوئی تفسیر نہیں لکھی گئی۔پھر ہمیشہ میں لاہور میں آتا رہتا ہوں اور یہاں کے رہنے والے جانتے ہیں کہ مجھ سے کالجوں کے پروفیسر ملنے آتے ہیں ،سٹوڈنٹس ملنے آتے ہیں ، ڈاکٹر ملنے آتے ہیں، مشہور پلیڈر اور وکیل ملنے آتے ہیں مگر آج تک ایک دفعہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی بڑے سے بڑے مشہور عالم نے میرے سامنے اسلام اور قرآن پر کوئی اعتراض کیا ہو اور میں نے اسلام اور قرآن کی تعلیم کی روشنی میں ہی اُسے ساکت اور لا جواب نہ کر دیا ہو اور اسے یہ