انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 169

۱۶۹ دعوی مصلح موعود کے متعلق پر شوکت اعلان انوار العلوم جلد ۷ میں زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں، میں ہوشیا پور کی ایک ایک اینٹ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔اگر لوگوں کے دل سخت ہوں گے تو فرشتے اُن کو اپنے ہاتھ سے ملیں گے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائیں گے اور اُن کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔میرا اپنا واقعہ ہے جب میں دمشق میں گیا تو عبد القادر مغربی جو اس علاقہ کی اسلامی تحریکات کی مجلس کے صدر تھے مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے ہندوستانی لوگ جاہل ہیں وہ اسلام اور قرآن سے ناواقف ہیں اور اس ناواقفیت سے فائدہ اُٹھا کر آپ نے اُن لوگوں میں اپنے سلسلہ کو پھیلا لیا۔عرب لوگ قرآن کی بولی جانتے ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اسلام اور قرآن کیا کہتا ہے اس لئے یہاں ان عقائد کا ہرگز نام نہ لیں اور یا درکھیں کہ ایک عرب بھی آپ کے سلسلہ کو قبول نہیں کر سکتا۔میں نے اُن سے کہا آپ کہتے ہیں کہ ہندوستانی لوگ چونکہ جاہل ہیں اس لئے اُن میں ہمارا سلسلہ پھیل گیا عرب کا کوئی آدمی ہمارے سلسلہ کو قبول نہیں کر سکتا میں یہاں سے جاتے ہی اپنا مشن بھیجوں گا اور اس وقت تک اس علاقہ کو نہیں چھوڑوں گا جب تک عربوں میں سے کئی لوگوں کو احمدی نہ بنالوں۔چنانچہ میں نے آتے ہی اپنے مبلغین کو اس علاقہ میں بھجوا دیا اور اب بڑے بڑے ڈاکٹر ، بیرسٹر اور تعلیم یافتہ اشخاص ہمارے سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں اور ہزاروں روپیہ وہ اسلام اور احمدیت کے لئے خرچ کر رہے ہیں۔پس یہ ہو نہیں سکتا کہ دنیا انکار کرے اور انکار کرتی چلی جائے ، یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جسے خدا نے بھیجا ہے اُس پر لوگ ایمان نہ لائیں مگر مبارک ہیں وہ جو اب ایمان لاتے ہیں ، مبارک ہیں وہ جو خدا کی آواز کو سنتے اور اُس پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ جو شخص خدا کے مامور کی آواز کو سنتا ہے وہ درحقیقت خدا کی آواز کو سنتا ہے اور جو شخص خدا تعالیٰ کے مامور کی آواز کو رڈ کرتا ہے وہ در حقیقت خدا تعالیٰ کی آواز کو رو کرتا ہے۔پس بڑی ہی بدقسمتی ہوگی اگر لوگ ایمان نہ لائیں اور خدا کے اس مامور کو قبول نہ کریں جو خدا نے ان کی ہدایت کے لئے مبعوث فرمایا۔(اس کے بعد حضور اس کمرہ میں تشریف لے گئے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے