انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 120

انوار العلوم جلد کا ۱۲۰ صلى الله سے بیٹھو اور اسے پیشاب کر لینے دو جب وہ پیشاب کر کے چلا گیا تو رسول کریم ﷺ نے : فرمایا۔اب لوٹے بھرو اور پیشاب کی جگہ پانی بہا دو ، جگہ صاف ہو جائے گی۔۵۰ تو دیکھو رسول کریم ﷺ نے اُس کے جذبات اور احساسات کا کیسا خیال رکھا کہ صحابہ کو منع کرنے بھی نہ دیا اس خیال سے کہ وہ دوسروں کے سامنے ذلیل اور شرمندہ ہوگا۔ڈھولک کے گیت پر رسول کریم اسی طرح حدیثوں میں آتا ہے ایک دفعہ آپ کا حکیمانہ طریق عمل گھر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عائشہ کے یپاس مدینہ کی دولڑکیاں آئیں اور انہوں نے ڈھولک کے ساتھ کوئی گیت گانا شروع کر دیا۔اوپر سے حضرت ابو بکر آ گئے انہوں نے ڈانٹا کہ یہ کیا کر رہی ہو۔تمہیں شرم نہیں آتی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے ہیں اور اُن کے سامنے یہ شیطانی کام کرتی ہو مگر رسول کریم ﷺ نے ان سے کچھ نہیں کہا۔آپ نے صرف اتنا کیا کہ چار پائی پر لیٹے لیٹے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا۔حضرت عائشہ سمجھ گئیں کہ رسول کریم ﷺ کا کیا منشاء ہے۔چنانچہ جب رسول کریم ﷺ کو نیند آنے لگی تو وہ فرماتی ہیں میں نے لڑکیوں کو اشارہ کیا کہ اب چلی جاؤ اے چنانچہ وہ اُٹھ کر چلی گئیں۔آب دیکھو یہ امر بظا ہر رسول کریم ﷺ کی شان کے خلاف تھا اور کہنے والوں نے یہی کہنا تھا کہ رسول کریم ﷺ ڈھولک کے ساتھ گانا سنتے ہیں۔مگر آپ نے اُن لڑکیوں کا دل رکھنے کے لئے خاموشی اختیار کی اور ایسا طریق اختیار کیا جس سے حضرت عائشہ بھی سمجھ گئیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا منشاء ہے اور اُن لڑکیوں کا دل بھی نہ دُکھا۔رسول کریم ع کی رحم دلی کی رحم دلی درہم بھی بڑی اعلی درجہ کی صفت ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔چنانچہ فتح مکہ اس کا ایک روشن ترین ثبوت ہے۔فتح مکہ میں جو کچھ ہوا اُس کی تفصیل کو میں چھوڑتا صلى الله ہوں۔میں اس وقت ایک اور مشہور واقعہ بیان کر دیتا ہوں۔رسول کریم ﷺ جب مدینہ میں تشریف لائے تو ایک دفعہ ایک قبیلہ کے چند لوگ حملہ کر کے رسول کریم ﷺ کی اونٹنیاں لے گئے۔اُن اونٹیوں کی حفاظت کیلئے جو نو کر مقرر تھا وہ دوڑا ہوا آیا اور کہنے لگا يَارَ سُولَ اللَّهِ !