انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 92

انوار العلوم جلد ۱۷ پہنچ جائے۔۹۲ خدا تعالیٰ کی نصرت پر اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ ایک جنگ میں تشریف لے گئے وہاں جس قوم سے لڑائی ہوئی یقین کامل کا ایک اور واقعہ اُس نے بعد میں فیصلہ کیا کہ ہم مسلمانوں کا کھلے بندوں مقابلہ نہیں کر سکتے۔ہم جب بھی مقابلہ کریں گے شکست کھا ئیں گے اس لئے ہمیں آئندہ مسلمانوں کا چوری چھپے مقابلہ کرنا چاہئے۔چنانچہ اُن میں سے ایک شخص نے قسم کھائی کہ میں اب محمد (ﷺ) کو مار کر ہی واپس آؤں گا۔وہ گھر سے چلا اور چوری چھپے اسلامی لشکر کے پیچھے آتا رہا۔جب مدینہ بہت تھوڑی دُوررہ گیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم آرام کرنے کیلئے ایک درخت کے نیچے لیٹ گئے۔صحابہ بھی اِس خیال سے کہ اب تو ہم اپنے علاقہ میں آگئے ہیں اردگرد جنگل میں پھیل گئے اور مختلف درختوں کے نیچے سو گئے۔اتفاقاً اُس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شخص نہ رہا اور آپ اکیلے اُس درخت کے نیچے رہ گئے۔آپ نے اپنی تلوار اُسی کیکر کی ایک شاخ کے ساتھ لٹکا دی اور سونے کیلئے لیٹ گئے۔وہ شخص جو آپ کے تعاقب میں آ رہا تھا اُس نے اِس موقع کو تاڑا۔وہ قریب آیا اور اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُس تلوار کو اُٹھا لیا جو کیکر کے درخت کے ساتھ لٹک رہی تھی۔پھر اُس نے آپ کو جگایا اور کہنے لگا میں آپ کو مارنے کیلئے گھر سے نکلا تھا اور میں قسم کھا کر چلا تھا کہ میں واپس نہیں جاؤں گا جب تک آپ کو ہلاک نہ کرلوں اب آپ مرنے کیلئے تیار ہو جائیں۔پھر کہنے لگا بولو اب کون تمہارے ساتھ ہے؟ تمہارے لشکر نے ہماری قوم کو تباہ کر دیا مگر اب وہ لشکر تمہارے پاس نہیں۔تم اکیلے میرے سامنے ہو اور تلوار میرے ہاتھ میں ہے بتاؤ اب تمہیں کون بچا سکتا ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسی طرح لیٹے لیٹے نہایت اطمینان کے ساتھ فرمایا۔اللہ اب کہنے کو تو بعض دفعہ بچے بھی اس قسم کی باتیں کہہ دیتے ہیں مگر جس یقین اور وثوق کے ساتھ آپ کی زبان سے یہ لفظ نکلا وہ اس کے نتیجہ سے ظاہر ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت سادگی سے فرمایا کہ اللہ تو اُس کا ہاتھ کانپ گیا اور تلوار اُس کے ہاتھ سے گر گئی۔آپ نے اُسی وقت اُٹھ کر تلوار کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور فرمایا بتا اب تجھے کون