انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 93

انوار العلوم جلد ۷ ۹۳ بچا سکتا ہے وہ کہنے لگا آپ ہی رحم فرما دیجئے ، آپ کے سوا اور کون بچا سکتا ہے۔۲۶ دیکھو! کتنا یقین اور وثوق ہے اللہ تعالیٰ کی ذات پر۔یہ یقین اور وثوق ایسا ہی ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ لکھا ہے کہ سورج کے وجود پر مجھے ھبہ ہو سکتا ہے، چاند کے وجود پر مجھے شبہ ہو سکتا ہے مگر خدا تعالیٰ کی ذات پر مجھے محبہ نہیں ہو سکتا ہے یہی یقین اور ایمان کامل اور ائتم طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں پایا جاتا تھا اور آپ ہر وقت خدا تعالیٰ کو اپنے ساتھ دیکھتے تھے۔غزوہ حنین میں خدا تعالیٰ کی پھر ایک اور واقعہ ہے جس سے آپ کے ایمان اور اُس یقین کا پتہ چلتا ہے جو آپ کو خدا تعالیٰ کی ذات نصرت پر غیر متزلزل یقین تھا۔فتح مکہ کے بعد جب رسول کریم علی پر بعض عرب قبائل کے مقابلہ کے لئے غزوہ حنین میں تشریف لے گئے تو چونکہ مکہ میں بہت سے لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اس لئے وہ بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہو گئے اور جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے وہ بھی صرف اظہار شان اور قومی جوش کی وجہ سے مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے اپنی کثرت اور طاقت پر لاف زنی شروع کر دی۔اللہ تعالیٰ نے اُن کو اس کبر کی سزا دینے کیلئے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ جب مسلمانوں کا لشکر آگے بڑھا تو دشمن کمین گاہ میں چھپ گیا اور اُن کے بڑے بڑے ماہر تیرانداز کچھ دائیں طرف چھپ کر بیٹھ گئے اور کچھ بائیں طرف چھپ کر بیٹھ گئے۔جب لشکر اس مقام سے گزرا جس کے دائیں بائیں ہزاروں تیرانداز چھپے بیٹھے تھے تو انہوں نے یکدم اسلامی لشکر پر تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔یہ دیکھ کر وہ حدیث العہد اور نئے مسلمان جن میں ابھی کمزوری پائی جاتی تھی اور مکہ کے وہ کافر جو صرف قومی جوش کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو گئے تھے بے تحاشہ میدانِ جنگ سے بھاگ نکلے۔ایسی صورت میں جب اگلے لوگ بھا گئیں تو لازماً پیچھے آنے والوں کے گھوڑے بھی بدک جاتے ہیں اور وہ بھی بھا گنا شروع کر دیتے ہیں۔چنانچہ اس جنگ میں بھی ایسا ہی ہوا۔جب وہ حدیث العہد مسلمان اور کفار تیروں کی بوچھاڑ برداشت نہ کرتے ہوئے بھاگے تو صحابہ کے گھوڑوں اور اونٹوں نے بھی بھا گنا شروع کر دیا اور تمام اسلامی لشکر