انوارالعلوم (جلد 17) — Page 40
انوار العلوم جلد ۱۷ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) زیادہ سے زیادہ مشقت نہیں برداشت کر سکتے ، اگر ہمارے بچے زیادہ سے زیادہ جفاکش نہیں ثابت ہو سکتے تو سمجھ لیجئے کہ وہ کچے انڈے کی طرح ہیں اور میں کہتا ہوں وہ روئی میں لپیٹ کر رکھنے کے قابل ہونگے۔پس اگر ہماری جماعت نے ایسے بچے پیدا کئے ہیں تو اس نے کوئی کام نہیں کیا اور اگر خدام الاحمدیہ نے ایسے نوجوان پیدا کئے ہیں تو اس نے کچھ نہیں کیا۔ان حالات کو دیکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر آئندہ کوئی ایسا موقع پیش آیا اور نوجوانوں نے ایسا نمونہ دکھایا تو ہم خدام کو سزا دیں گے۔میں سمجھتا ہوں یہ بڑی شاک پہنچانے والی بات ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ قومی اور جماعتی طور پر سزا دینا بھی ضروری ہوتا ہے چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی قاتل نہ پکڑ ا جائے اور دبیت نہ دی جائے تو سارے علاقہ سے ہم دیت لیں گے۔پس میں وقت پر اطلاع دیتا ہوں کہ ہماری جماعت کے نوجوانوں کا ایک حصہ سُست اور غافل ہے ، محنت و مشقت کرنے کا عادی نہیں ، اپنے فرائض کا اسے احساس نہیں اور اس کیلئے مقامی جماعتیں ذمہ دار ہیں کیونکہ ان کا فرض ہے کہ محنت و مشقت سے کام کرنے والے، افسروں کی اطاعت کرنے والے، سمجھ و عقل سے کام کرنے والے، جفاکش اور محنتی نوجوان پیدا کریں۔اگر کوئی جماعت ایسا نہیں کرتی تو وہ سمجھ لے کہ اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتی ہے خواہ وہ دس کروڑ روپیہ بھی چندہ دے کیونکہ آدمیوں کے مقابلہ میں روپیہ کی کچھ حقیقت نہیں ہے۔اس سال کیلئے جونئی تجاویر میں پیش کرنا چاہتا ہوں جماعتیں ان کو نوٹ کرلیں اور یاد کر لیں تا کہ ان پر عمل کر سکیں۔ا۔جس قدر بڑی جماعتیں ہیں اور (اپنی چھوٹی سی جماعت کو مد نظر رکھتے ہوئے) بڑی جماعت سے مراد وہ جماعت ہے جس کے مرد، عورتیں اور بچے ملا کر پانچ سو کی تعداد میں ہوں۔اُس جماعت کا فرض ہے کہ ہر سال اپنی مردم شماری کرائے اور نقشہ پُر کر کے مرکز میں بھیجے جس میں یہ امور درج ہوں۔(۱) پچھلے سال افراد کی تعداد کتنی تھی (۲) ۱۲ ماہ کے بعد ان افراد میں سے کتنے کم ہوئے۔(i) فوت سے (ii) ارتداد سے (iii) کہیں دوسری جگہ چلے جانے کی وجہ سے