انوارالعلوم (جلد 17) — Page 33
انوار العلوم جلد ۷ ۳۳ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) کم بچے تو بہت مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ایسی صورت میں جبکہ غرباء کے پاس نہ غلہ ہوگا اور نہ پیسے، اُن کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔پس دوستوں کو ابھی سے غلہ فنڈ کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔جب اس کیلئے اعلان ہو تو ان غرباء کیلئے جو قادیان میں رہتے ہیں ضرور اپنے خرچوں سے بچا کر اس میں حصہ لیں۔ایک حصہ جماعت کا ایسا ہے جو حصہ نہیں لیتا اگر سارے کے سارے لوگ حصہ لیں تو کافی غلہ جمع ہو سکتا ہے۔پچھلے سال میں نے ہدایت کی تھی کہ زمیندار زیادہ سے زیادہ غلہ بوئیں۔جنہوں نے اس پر عمل کیا اچھی بات کی اور جنہوں نے نہ کیا اُنہوں نے غلطی کی۔اب جو غلہ بھی کسی قسم کا ہو سکتے ہوں ضرور ہوئیں تا کہ خود بھی تکلیف سے بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔بارش کی کمی کو دیکھ کر ڈ رہی لگتا ہے کہ پنجاب نے چونکہ بنگال کی مصیبت کو دور کرنے میں پوری طرح حصہ نہیں لیا اس لئے پنجاب کو بھی (خدا کرے یہ میرا وہم ہو ) اسی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے۔خدا تعالیٰ اپنے فضل سے بارش برسا کر اس خطرہ کو دور فرمائے اور نہ صرف اس صو بہ کو بلکہ سارے ملک کو قحط کے عذاب سے نیز دوسرے ہر قسم کے عذابوں سے محفوظ رکھے تا کہ لوگ تکلیف ما لا يُطَاق سے دو چار نہ ہوں۔تحریک جدید اب میں تحریک جدید کی طرف آتا ہوں۔یہ دسواں سال ہے اور تحریک جدید کے پہلے دور کا آخری سال ہے۔یہ تحریک ایسی تکلیف کے وقت شروع کی گئی تھی کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ دنیا کی ساری طاقتیں جماعت احمدیہ کو مٹانے کیلئے جمع ہوگئی ہیں۔ایک طرف احرار نے اعلان کر دیا کہ انہوں نے جماعت احمدیہ کو مٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ اُس وقت تک سانس نہ لیں گے جب تک وہ مٹا نہ لیں۔دوسری طرف جو لوگ ہم سے ملنے جلنے والے تھے اور بظاہر ہم سے محبت کا اظہار کرتے تھے انہوں نے پوشیدہ بغض نکالنے کیلئے اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے سینکڑوں اور ہزاروں روپوں سے اُن کی امداد کرنی شروع کر دی۔اور تیسری طرف سارے ہندوستان نے ان کی پیٹھ ٹھونکی۔یہاں تک کہ ایک ہمارا وفد گورنر پنجاب سے ملنے کیلئے گیا تو اُسے کہا گیا کہ تم لوگوں نے احرار کی اس تحریک کی اہمیت کا اندازہ نہیں لگایا۔ہم نے محکمہ ڈاک سے پتہ لگایا ہے پندرہ سو روپیہ روزانہ اُن کی آمدنی