انوارالعلوم (جلد 17) — Page 32
انوار العلوم جلد ۷ ۳۲ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳ ) پریس جس نے چھاپنے کا ٹھیکہ کیا تھا وہ عربی کا ٹائپ مہیا نہیں کر سکا۔اب اس کے لئے حیدر آباد دکن میں انتظام کیا گیا ہے اگر وہاں عربی کا ٹائپ بن جائے تو انگریزی ترجمہ شائع ہوسکتا ہے۔مجھے بتایا گیا تھا کہ ۳۰ / نومبر کو سیسہ حیدر آباد بھجوایا گیا تھا لیکن رپورٹ آئی ہے کہ وہاں ابھی تک نہیں پہنچا حالانکہ سواری گاڑی میں بھیجا گیا تھا۔حیدر آباد والے کہتے ہیں کہ اگر سیسہ مل جائے تو دو تین ماہ میں عربی ٹائپ کا کام ختم کر لیں گے۔ارادہ یہ ہے کہ سورۃ نحل تک کا ترجمہ پہلی جلد میں چھپے جو قریباً تیار ہے۔اگر جنوری میں بھی ٹائپ آ جائے تو مجلس شوری سے پہلے پہلے تیار کر سکتے ہیں۔مصالح تیار ہے صرف عربی ٹائپ کی دیر ہے۔حیدر آباد کے دوست جلسہ سے واپس جا کر جلدی کام کرا دیں اور ٹائپ جلد بھجوا دیں تو میں سمجھتا ہوں پھر کام جلدی ہو جائے گا ورنہ جنگ کے بعد ہندوستان کے چھپے ہوئے کو انگریزوں کا پڑھنا مشکل ہوگا۔غلہ منڈی کی تحریک اب میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آئندہ سال غلہ کے لحاظ سے بہت مشکلات لے کر آنے والا ہے۔۱۹۴۲ء کے شروع میں گورنمنٹ نے غلہ پر کنٹرول کیا تھا مگر وہ بہت ناکام رہا۔اُس وقت بھی میں نے کہا تھا کہ ضرورت کیلئے غلہ جمع کر لینا چاہئے۔اُس وقت جنہوں نے جمع کیا وہ آرام میں رہے اور جنہوں نے اس طرف توجہ نہ کی انہوں نے بہت تکلیف اور نقصان اُٹھایا۔۱۹۴۲ء میں میں نے قادیان کے غرباء کیلئے غلہ کی تحریک کی اس پر کافی غلہ جمع ہو گیا۔اسی طرح ۱۹۴۳ء میں بھی تحریک کی گئی اور سترہ اٹھارہ ہزار روپیہ کے قریب غرباء کے غلہ کیلئے جمع ہوا اور غرباء کو پانچ پانچ ماہ کا غلہ دے دیا گیا۔اگلے سال کچھ مزید وقتیں پیش آنے والی ہیں۔اس سال ابھی تک بارش نہیں ہوئی اور اس وجہ سے بارانی فصلوں کی حالت خراب ہو رہی ہے۔جوں جوں سردی لمبی ہوتی جائے گی اور گرد بڑھتی جائے گی فصلوں کی حالت خراب ہوتی جائے گی۔اگر جلدی بارش نہ ہوئی تو ایسا نظر آتا ہے کہ پنجاب میں بھی قحط پڑ جائے گا۔ادھر حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اگر غلہ کم پیدا ہوا تو قیمت اور زیادہ بڑھادی جائے گی۔اب گورنمنٹ ہند نے زور دے کر کہا ہے کہ غلہ کی قیمت گرائی جائے۔کتنی گرائی جائے گی یہ معلوم نہیں مگر موجودہ نرخ سے کم کی جائے گی۔ممکن ہے آٹھ روپے من یا اس سے بھی کم کر دی جائے تو ایسی صورت میں جب کہ ملک میں غلہ کم ہو یا