انوارالعلوم (جلد 17) — Page 540
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۴۰ الموعود مصنف اسلامی نے نہیں لکھے اور مولوی صاحبان کو چھ ماہ کی مدت دی جائے گی کہ وہ اُس پر جرح کر لیں اور جس قدر حصہ ان کی جرح کا منصف تسلیم کریں اُس کو کاٹ کر باقی کتاب کا مقابلہ اُن کی کتاب سے کیا جائے گا اور دیکھا جائے گا کہ میرے بیان کردہ معارف قرآنیہ جو حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے لئے گئے ہوں گے اور جو پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں گے، ان علماء کے معارف قرآنیہ سے کم از کم دُگنے ہیں یا نہیں جو اُنہوں نے قرآن کریم سے ماخوذ کئے ہوں اور وہ پہلی کسی کتاب میں موجود نہ ہوں۔اگر میں ایسے دُگنے معارف دکھانے سے قاصر رہوں تو مولوی صاحبان جو چاہیں کہیں۔لیکن اگر مولوی صاحبان اس مقابلہ سے گریز کریں یا شکست کھا ئیں تو دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ منجانب اللہ تھا۔یہ ضروری ہوگا کہ ہر فریق اپنی کتاب کی اشاعت کے معا بعد اپنی کتاب دوسرے فریق کو رجسٹری کے ذریعہ سے بھیج دے۔مولوی صاحبان کو میں اجازت دیتا ہوں کہ وہ دگنی چوگنی قیمت کا ، وی پی میرے نام کر دیں۔اگر مولوی صاحبان اس طریق فیصلہ کو نا پسند کریں اور اِس سے گریز کریں تو دوسرا طریق یہ ہے کہ میں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ادنیٰ خادم ہوں میرے مقابلہ پر مولوی صاحبان آئیں اور قرآن کریم کے تین رکوع کسی جگہ سے قرعہ ڈال کر انتخاب کر لیں اور وہ تین دن تک اُس ٹکڑے کی ایسی تفسیر لکھیں جس میں چند ایسے نکات ضرور ہوں جو پہلی کتب میں موجود نہ ہوں اور میں بھی اُسی ٹکڑے کی اسی عرصہ میں تفسیر لکھوں گا اور حضرت مسیح موعود کی تعلیم کی روشنی میں اُس کی تشریح بیان کروں گا اور کم سے کم چندایسے معارف بیان کروں گا جو اس سے پہلے کسی مفسر یا مصنف نے نہ لکھے ہوں گے اور پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم کی کیا خدمت کی ہے اور مولوی صاحبان کو قرآن کریم اور اُس کے نازل کرنے والے سے کیا تعلق اور کیا رشتہ ہے۔٣٣ یہ ہے اصل چیلنج جو میری طرف سے دیا گیا لیکن مولوی ثناء اللہ صاحب اس کے جواب میں