انوارالعلوم (جلد 17) — Page 487
انوار العلوم جلد ۷ ۴۸۷ الموعود آسانی سے پڑھی جاتی ہے۔اگر سورہ بقرہ کی ہی دو اڑھائی ہزار صفحات میں تفسیر شائع ہو تو اس قسم کے لوگ اوروں کو بھی ڈرا دیں گے اس لئے میں سمجھتا ہوں ہمیں پہلے پارہ کی تفسیر الگ شائع کرنی پڑے گی۔بہر حال یہ دونوں تفسیر میں انشَاءَ اللہ جلد شائع ہو جائیں گی۔آخری پارہ کی تفسیر کے متعلق میری یہ خواہش تھی کہ جلسہ سالانہ تک اس کے تین چار سو صفحے چھپ جائیں مگر مشکل یہ ہوئی کہ قادیان میں کوئی پر لیں اس غرض کے لئے فارغ نہیں تھا اُن کے پاس اور بہت سے کام تھے یا اُن کی چھپوائی اتنی اچھی نہیں تھی جتنی اچھی چھپوائی ہم تفسیر کی چاہتے ہیں۔دو مہینے کی بات ہے کچھ کا پیاں ایک پریس پر لگائی گئیں تو وہ سب کی سب اُڑ گئیں۔اب میں نے تحریک جدید کی طرف سے ایک پریس خرید لیا ہے اور دس ہزار روپیہ اُس پر صرف آیا ہے اور انشاء الله جنوری میں فٹ ہو کر تفسیر کی چھپوائی شروع ہو جائے گی۔یہ دقتیں تھیں جن کی وجہ سے تفسیر شائع نہ ہو سکی ورنہ اگر پہلے چھپ سکتی تو جس طرح پہلے سال میں نے شائع شدہ تفسیر کا کچھ حصہ دوستوں کے لئے دفتر میں رکھوا دیا تھا اسی طرح اس سال بھی میں اُس کا کچھ حصہ رکھوا دیتا مگر پریس کی مشکلات کی وجہ سے باوجود اس کے کہ مضمون تیار ہے اور باوجود اس کے کہ کا پیاں لکھنے والے فارغ ہیں اور کچھ کا پیاں لکھی ہوئی بھی موجود ہیں ہم اس کا کوئی حصہ چھپوا نہیں سکے جس کی وجہ سے احباب کو تفسیر کا نمونہ دکھانے سے ہم قاصر رہے ہیں۔(الفضل ۲۵ جنوری ۱۹۴۵ء) اس کے بعد اصل مضمون ” الموعود کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:۔) براہین احمدیہ کی اشاعت ۱۸۸۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عظیم الشان کتاب ” براہین احمدیہ کی آخری سے غیر مذاہب میں تہلکہ جلد شائع ہوئی تھی۔اس کتاب کے شائع ہونے پر قدرتی طور پر غیر مذاہب کے وہ مشنری اور مبلغ جو یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم اسلام کو کھا جائیں گے ، اُن کے اندر بے چینی اور گھبراہٹ پیدا ہونی شروع ہوگئی کیونکہ اس سے پہلے ایک طرف تو عیسائی یہ سمجھ رہے تھے کہ مسلمان ہمارا شکار ہیں اور دوسری طرف ہندوؤں میں پنڈت دیانند صاحب بانی آریہ سماج کی کوششوں کی وجہ سے ایک مذہبی بیداری پیدا ہو رہی تھی اور وہ بھی یہ خیال کر رہے تھے کہ مسلمان اب ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتے۔اسی طرح بر ہمو سماج والے