انوارالعلوم (جلد 17) — Page 457
انوار العلوم جلد کا ۴۵۷ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) دوسری جماعت جس نے جماعت دہلی سے بھی بڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیا ہے وہ کلکتہ کی جماعت ہے۔ابھی پانچ سات سال کی بات ہے کہ کلکتہ کی جماعت کا چندہ دو چار ہزار روپیہ سے زیادہ نہ ہوتا تھا مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہوا ہے کچھ نئے آدمی وہاں گئے اور جو پہلے سے وہاں موجود تھے اُن میں سے بعض کی حالت سدھر گئی اور اب یہ حالت ہے کہ اس جماعت نے ۶۶ ہزار روپیہ چندہ مسجد کے لئے دیا ہے اور ان میں سے بعض نے تحریک کی ہے کہ اس چندہ کو ڈبل کیا جائے گویا ایک لاکھ میں ہزار کے قریب۔ایک جگہ بھی انہوں نے مسجد کیلئے تجویز کی ہے جو امید ہے ساٹھ پینسٹھ ہزار میں مل جائے گی۔ایک اور ٹکڑہ زمین کا شہر کے اندر ہے مگر اُس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپیہ ہے میں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ شہر کے باہر کے علاقہ میں بنائیں۔باہر کے علاقہ میں تبلیغ میں سہولت ہوتی ہے وہاں مخالفت بھی بڑی ہوتی ہے تو اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے کلکتہ میں سامان ہو رہا ہے اور جماعت نے ۶۶ ہزار روپیہ جمع کر دیا ہے۔بمبئی میں ابھی جگہ خریدی نہیں گئی مگر وہاں بھی سامان ہو رہا ہے۔وہاں قبرستان کے لئے بھی جگہ حاصل کی جا رہی ہے۔بعض ممبروں کے دستخط بھی ہو چکے ہیں صرف ایک کے باقی ہیں۔فی الحال بمبئی میں زمین خریدنے کے لئے روپیہ مرکز سے بھجوایا گیا ہے۔پشاور میں پہلے سے مسجد ہے مگر چھوٹی ہے وہاں مبلغ کے لئے مکان اور لیکچر ہال کی بھی ضرورت ہے اور میں صوبہ سرحد کے احمدیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ کسی ایسی جگہ کا خیال رکھیں جہاں پاس آبادی بھی ہو اور جگہ کھلی مل سکے تا اگر ہو سکے تو وہاں عربی مدرسہ بھی جاری کیا جا سکے۔کراچی میں چار کنال کے قریب زمین میں دیر سے خرید چکا ہوا ہوں یہ دراصل اراضیات سندھ کے سلسلہ میں خریدی گئی تھی کیونکہ خیال تھا کہ کراچی میں شاید رکھنا پڑے گا جو کہ حکام وغیرہ سے۔کچھ تو میں نے ذاتی طور پر خریدی تھی اور کچھ انجمن کی طرف سے خریدی تھی۔لاہور میں بھی اچھے موقع پر سات ایکٹر زمین خرید لی گئی ہے مگر اب حکومت کی طرف سے نوٹس دیا گیا ہے اور وہ اسے واپس لینا چاہتی ہے کوشش کی جائے گی کہ وہ واپس نہ لے کیونکہ