انوارالعلوم (جلد 17) — Page 458
انوار العلوم جلد ۷ ۴۵۸ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) ہمارے پاس تو وہاں اور کوئی زمین ہے نہیں اور اگر انصاف سے کام لیا گیا تو ہم سے یہ زمین جبرانہ لی جائے گی۔مدراس میں کوئی کوشش نہیں کی گئی اگر وہاں بھی مسجد بن سکتی تو تبلیغ کا بہت اچھا موقع پیدا ہو سکتا تھا۔حیدر آباد بھی ہندوستان میں ایک اہم جگہ ہے سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور اُنہوں نے ۲۵ ،۳۰ ہزار روپیہ صرف کر کے وہاں ایک احمد یہ جو بلی ہال تعمیر کرایا ہے۔ہے تو وہ مسجد ہی مگر کہلاتی ہال ہے اب انہوں نے اسے اور بڑا کر دیا ہے اور وہ اب تک اس پر قریباً پچاس ہزار روپیہ خرچ کر چکے ہیں۔اس کے بعد میں بیرونی مشنوں کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں۔بیرونی مشعوں کے متعلق اس سال جنگی مشکلات کے باوجود انگلستان، امریکہ اور افریقہ میں تبلیغی لحاظ سے اچھی کامیابی ہوئی ہے۔انگلستان اور امریکہ وغیرہ ممالک میں یہ حالت ہے کہ قریباً تمام مرد جنگی خدمات کے سلسلہ میں بھرتی ہو چکے ہیں۔یا تو وہ فوج میں کام کرتے ہیں اور یا کارخانوں میں، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے انگلستان میں مولوی جلال الدین صاحب شمس کو توفیق دی اور انہوں نے انگلستان کے بڑے طبقہ کے لوگوں میں احمدیت کو روشناس کرا دیا۔اسی طرح امریکہ میں بھی اچھی کامیابی ہوئی ہے مگر سب سے زیادہ کامیابی افریقہ میں ہوئی ہے۔وہاں اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے تین مشن ہیں (۱) نائیجریا میں۔جو ہندوستان کے بعد سب سے بڑا اسلامی ملک ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی دس کروڑ کے قریب ہے اور وہاں دو تین کروڑ ہے۔(۲) گولڈ کوسٹ۔یہاں بھی کثرت سے مسلمان آباد ہیں۔ނ ہے۔(۳) سیرالیون۔یہاں بھی مسلمان آباد ہیں ان علاقوں میں عیسائیوں نے مشن کھول رکھے ہیں اور عیسائی حکومت بھی ان کی مدد کرتی ہے۔حکومت کی پالیسی یہ تھی کہ عیسائیوں کے سکولوں کے سوا کسی سکول کو کوئی امداد نہ دی جائے۔ہم نے بھی وہاں کئی سکول قائم کئے ہیں اور لڑ بھڑ کر حکومت سے امداد بھی لی ہے ان تینوں علاقوں میں ہمارے مدارس قائم ہیں جن میں