انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 418

۴۱۸ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات انوار العلوم جلد ۱۷ خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے مردوں کو بھی پیدا کیا ہے اور عورتوں کو بھی ، اور جو عورتوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے اور مردوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے، جو عورتوں کی خوبیوں سے بھی واقف ہے اور مردوں کی خوبیوں سے بھی واقف ہے، جو عورتوں کی قابلیت سے بھی واقف ہے اور مردوں کی قابلیت سے بھی واقف ہے، جو عورتوں کے جذبات کو بھی سمجھتا ہے اور مردوں کے جذبات کو بھی جانتا ہے قرآن مجید میں آتا ہے۔مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيْنِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لا تبغين ٥ وہ کہ اس دنیا میں دو دریا پاس پاس اور اکٹھے بہتے ہیں مگر باوجود پاس پاس اور ا کٹھے بہنے کے آپس میں ملتے نہیں۔یہ دو دریا مرد اور عورت ہی ہیں جو ایک دوسرے کے پاس پاس رہتے ہیں اور ایک دوسرے سے اُن کو محبت اور پیار بھی ہوتا ہے۔بہن بھائی سے محبت کرتی ہے اور بھائی بہن سے محبت کرتا ہے، خاوند بیوی سے محبت کرتا ہے اور بیوی خاوند سے محبت کرتی ہے یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کی خاطر بعض دفعہ اپنی جانیں بھی قربان کر دیتے ہیں لیکن پھر بھی عورت عورت ہی ہے اور مرد مرد ہی ہے اِن دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے اور یہ ایک دوسرے سے مل نہیں سکتے سوائے اِس کے کہ خدا تعالیٰ میں ہو کر آپس میں مل جائیں یہی ایک رشتہ ہے جو ایک دوسرے کو آپس میں ملاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس لئے مجھے کہا ہے کہ عورتوں کی اصلاح کرو کہ میں امام ہوں لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ کام تمہاری مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔تم ہی ہو جو یہ کام کر سکتی ہو۔تم ہی ہو جو اسلام کی ترقی کی داغ بیل ڈال سکتی ہو۔یہ کام صرف تمہارے ذریعہ سے ہی ہو سکتا ہے اور تمہاری مدد اور تعاون کے بغیر اس کام میں کامیاب ہو ناممکن نہیں۔پس میں یہ اللہ تعالیٰ کا پیغام تم تک پہنچا تا ہوں کہ اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔پس جو عورتیں اسلام کا درد رکھتی ہیں اور اس کی ترقی چاہتی ہیں اور اپنے اندرا خلاص رکھتی ہیں اُن کا فرض ہے کہ عورتوں کی اصلاح کے لئے کھڑی ہوں۔میں نے عورتوں کی اصلاح کے لئے لجنہ اماءاللہ قائم کی ہوئی ہے لجنہ کو چاہئے کہ وہ اپنی منظم کو مکمل کرے اور عورتوں کی اصلاح اور اُن کی تربیت اور اُن کے اخلاق کی درستی کی کوشش کرے اور عورتوں کی اصلاح اور تربیت کے لئے جن سامانوں کی ضروت ہے وہ سامان مہیا