انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 417

انوار العلوم جلد کا ۴۱۷ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات طرف لانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے کیونکہ ایک غیر مذہب کا آدمی قرآن مجید کا مطالعہ اور اس پر غور اور اس پر عمل تو تب کرے گا جب وہ مسلمان ہو جائے گا۔مسلمان ہونے سے پہلے تو وہ ہمارے عمل اور ہمارے نمونہ سے ہی اسلام کی طرف متوجہ ہو سکتا ہے۔پس عورتوں کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔قادیان میں تو اس کام کے لئے ہر قسم کی جد و جہد ہو رہی ہے۔یہاں تعلیم کا انتظام بھی موجود ہے۔لڑکیوں کے لئے مدرسہ اور دبینیات کا کالج بھی ہے مگر جیسا کہ میں بتا چکا ہوں اور جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یہ کام ہمارے بس کا نہیں بلکہ یہ کام تمہارے ہاتھوں سے ہوسکتا ہے جب تک تم ہماری مدد نہ کرو اور ہمارے ساتھ تعاون نہ کرو اور جب تک تم اپنی زندگیوں کو اسلام کے فائدہ کے لئے نہ لگاؤ گی اُس وقت تک ہم کچھ نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے دو حصے کر کے اس کے اندر الگ الگ جذبات پیدا کئے ہیں۔عورت مرد کے جذبات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتی اور مردعورت کے جذبات کو صحیح طور پر نہیں سمجھ سکتا پس چونکہ ہم ایک دوسرے کے جذبات پہچاننے سے قاصر ہیں اس لئے مردوں کی صحیح تربیت مرد ہی کر سکتے ہیں اور عورتوں کی صحیح تربیت عورتیں ہی کر سکتی ہیں۔ہم عورتوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکتے ہمارے دلوں میں تو مردوں والے جذبات ہیں عورتوں کے دُکھ اور اُن کی ضروریات عورتیں ہی سمجھ سکتی ہیں اور وہی اُن کے شکوک کا ازالہ اور اُن کی مشکلات کا حل اور اُن کی صحیح اصلاح کر سکتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید فرماتا ہے کہ بنی نوع انسان کے لئے وہی مذہب مفید ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔اگر انسان مذہب بنائے گا اور اُس مذہب کا بنانے والا مرد ہو گا تو وہ صرف مردوں کے جذبات اور مردوں کے خیالات کو ہی ملحوظ رکھے گا وہ عورتوں کے جذبات اور عورتوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکے گا۔اور اگر اُس مذہب کو بنانے والی عورت ہو گی تو وہ صرف عورتوں کے جذبات اور عورتوں کے خیالات کو ملحوظ رکھ سکے گی اور مردوں کے جذبات اور مردوں کے خیالات کی صحیح ترجمانی نہیں کر سکے گی۔پس اس خلیج کو جو مرد اور عورت کے درمیان حائل ہے اگر کوئی وجود پاٹ سکتا ہے تو وہ خدا تعالیٰ ہی ہے اور وہی مذہب ساری دنیا کے لئے مفید ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو۔