انوارالعلوم (جلد 17) — Page 365
انوار العلوم جلد ۷ ۳۶۵ میری مریم وجہ سے سانس پر دباؤ ہے اور ڈر ہے کہ جان کندن کی تکلیف زیادہ سخت نہ ہو اس لئے آکسیجن گیس سنگھانی چاہئے۔چنانچہ وہ لائی گئی اور اس کے سنگھانے سے سانس آرام سے چلنے لگ گیا مگر آہستہ ہوتا گیا لیکن ہونٹوں میں اب تک ذکر کی حرکت تھی۔خدا تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو گیا آخر دو بج کر دس منٹ پر جب کہ میں گھبرا کر باہر نکل گیا تھا، عزیزم میاں بشیر احمد صاحب نے باہر نکل کر مجھے اشارہ کیا کہ آپ اندر چلے جائیں۔اس اشارہ کے معنی یہ تھے کہ خدا تعالیٰ کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے۔میں اندر گیا اور مریم کو بے حس و حرکت پڑا ہوا پایا مگر چہرہ پر خوشی اور اطمینان کے آثار تھے۔ان کی لمبی تکلیف اور طبیعت کے چڑ چڑا پن کی وجہ سے مجھے ڈر تھا کہ وفات کے وقت کہیں کسی بے صبری کا اظہار نہ کر بیٹھیں اس لئے ان کے شاندار اور مؤمنانہ انجام پر میرے منہ سے بے اختیار الْحَمدُ للهِ نکلا۔سجدہ شکر اور میں ان کی چارپائی کے پاس قبلہ رخ ہوکر خدا تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گر گیا اور دیر تک اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہا کہ اُس نے ان کو ابتلاء سے بچایا اور شکر گزاری کی حالت میں ان کا خاتمہ ہوا۔اس کے بعد ہم نے ان کے قادیان لے جانے کی تیاری کی اور شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر لا کر انہیں غسل دیا گیا۔پھر موٹروں اور لاریوں کا انتظام کر کے قادیان خدا کے مسیح کے گھر میں ان کو لے آئے۔ایک رات ان کو انہی کے مکان کی نچلی منزل میں رکھا اور دوسرے دن عصر کے بعد بہشتی مقبرہ میں ان کو خدا تعالیٰ کے مسیح کے قدموں میں ہمیشہ کی جسمانی آرام گاہ میں خود میں نے سر کے پاس سے سہارا دے کر اُتارا اور لحد میں لٹا دیا۔اللَّهُمَّ ارْحَمْهَا وَارَحَمْنِي مرحومہ کی اولا د چار بچے ہیں تین لڑکیاں اور ایک لڑکا۔یعنی امتہ الحکیم، امتہ الباسط ، اولاد طاہر احمد اور امتہ الجميل سَلَّمَهُمُ اللهُ تَعَالَى وَكَانَ مَعَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ جب مرحومہ کو لے کر ہم شیخ بشیر احمد صاحب کے گھر پہنچے تو چھوٹی لڑکی امتہ الجمیل جو ان کی اور میری بہت لاڈلی تھی اور گل سات برس کی عمر کی ہے ، اُسے میں نے دیکھا کہ ہائے امی ! ہائے امی ! کہہ کر چھینیں مار کر رو رہی ہے۔میں اُس بچی کے پاس گیا اور اُسے کہا جمی ! ( ہم اُسے جمی کہتے