انوارالعلوم (جلد 17) — Page 364
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۶۴ میری مریم جوان کو بہت پیاری تھی پڑھ کر سنانی شروع کی ( مجھے اس کا علم نہ تھا بعد میں ان کی بعض سہیلیوں نے بتایا کہ ایسا تھا ) اور ساتھ ساتھ اس کا ترجمہ بھی سنانا شروع کیا۔جب میں سورۃ پڑھ چکا تو انہوں نے آہستہ آواز میں کہا کہ اور پڑھیں تب میں نے سمجھ لیا کہ وہ اپنے آخری وقت کا احساس کر چکی ہیں اور تب میں نے سورۃ لیسن پڑھنی شروع کر دی۔آخری دعا ئیں اس کے بعد چونکہ اب اپنے آخری وقت کا انکشاف ہو چکا تھا کسی بات پر جو انہوں نے مجھے کہا کہ میرے پیارے! تو میں نے ان سے کہا مریم ! اب وہ وقت ہے کہ تم کو میرا پیار بھی بھول جانا چاہئے۔اب صرف اُسی کو یاد کرو جو میرا بھی اور تمہارا بھی پیارا ہے۔مریم ! اسی پیارے کو یاد کرنے کا یہ وقت ہے اور میں نے کبھی لا إِلهُ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَنَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ اور کبھی رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اَنْتَ اور کبھی بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ پڑھنا شروع کیا اور ان سے کہا کہ وہ اسے دُہراتی جائیں۔کچھ عرصہ کے بعد میں نے دیکھا کہ ان کی زبان اب خود بخود اذکار پر چل پڑی ہے۔چہرہ پر عجیب قسم کی ملائمت پیدا ہوگئی اور علامات سے ظاہر ہونے لگا جیسے خدا تعالیٰ کو سامنے دیکھ کر ناز سے اُس کے رحم کی درخواست کر رہی ہیں۔نہایت میٹھی اور پیاری اور نرم آواز سے انہوں نے بار باريَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ اسْتَفِيتُ کہنا شروع کیا۔یہ الفاظ وہ اس انداز سے کہتیں اور اَسْتَفِیت کہتے وقت ان کے ہونٹ اس طرح گول ہو جاتے کہ معلوم ہوتا تھا اپنے ربّ پر پورا یقین رکھتے ہوئے اُس سے ناز کر رہی ہیں اور صرف عبادت کے طور پر یہ الفاظ کہہ رہی ہیں ورنہ اُن کی روح اس سے کہہ رہی ہے کہ میرے رب ! مجھے معلوم ہے تو مجھے معاف کر ہی دے گا۔اس کے بعد میں نے ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب کو بلوایا کہ اب مجھ میں برداشت نہیں ، آپ تلقین کرتے رہیں۔چنانچہ انہوں نے کچھ دیر تلاوت اور اذکار کا سلسلہ جاری رکھا۔اس کے بعد کچھ دیر کے لئے پھر میں آ گیا۔پھر میر صاحب تشریف لے آئے۔باری باری ہم تلقین کرتے رہے۔اب ان کی آواز رُک گئی تھی مگر ہونٹ ہل رہے تھے اور زبان بھی حرکت کر رہی تھی۔اس وقت ڈاکٹر لطیف صاحب دہلی سے تشریف لے آئے اور انہوں نے کہا کہ بیماری کی