انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 363 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 363

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۶۳ میری مریم جس پر میں نے انہیں نصیحت کی۔انہوں نے اس سے سمجھا کہ گویا میں نے یہ کہا ہے کہ تم نے روحانی کمزوری دکھائی ہے رحم کو اُبھارنے والی نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا کہ میرے پیارے آقا! مجھے کا فر کر کے نہ ماریں یعنی اگر میں نے غلطی کی ہے تو مجھ پر ناراض نہ ہوں ، مجھے صحیح بات بتا دیں۔اُس وقت میں نے دیکھا کہ موت تیزی سے ان کی طرف بڑھتی آ رہی ہے۔میرا حساس دل اب میرے قابو سے نکلا جا رہا تھا ، میری طاقت مجھے جواب دے رہی تھی مگر میں سمجھتا تھا کہ خدا تعالیٰ اور مرحومہ سے وفاداری چاہتی ہے کہ اس وقت میں انہیں ذکر الہی کی تلقین کرتا جاؤں اور اپنی تکلیف کو بھول جاؤں۔میں نے اپنے دل کو سنبھالا اور ٹانگوں کو زور سے قائم کیا اور مریم کے پہلو میں جھک کر نرمی سے کہا تم خدا تعالیٰ پر بدظنی نہ کرو۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی ( وہ سید تھیں ) اور مسیح موعود علیہ السلام کی بہو کو کا فر کر کے نہیں مارے گا۔آخری گفتگو اُس وقت میرا دل چاہتا تھا کہ ابھی چونکہ زبان اور کان کام کرتے ہیں میں ان سے کچھ محبت کی باتیں کرلوں مگر میں نے فیصلہ کیا کہ اب یہ اس جہان کی روح نہیں اُس جہان کی ہے اب ہمارا تعلق اس سے ختم ہے۔اب صرف اپنے رب سے اس کا واسطہ ہے اس واسطہ میں خلل ڈالنا اس کے تقدس میں خلل ڈالنا ہے اور میں نے چاہا کہ انہیں بھی آخری وقت کی طرف توجہ دلاؤں تا کہ وہ ذکر الہی میں مشغول ہو جائیں مگر صاف طور پر کہنے سے بھی ڈرتا تھا کہ ان کا کمزور دل کہیں ذکر الہی کا موقع پانے سے پہلے ہی بیٹھ نہ جائے۔آخر سوچ کر میں نے ان سے اِس طرح کہا کہ مریم! مرنا تو ہر ایک نے ہے دیکھو! اگر میں پہلے مرجاؤں تو میں اللہ تعالیٰ سے درخواست کروں گا کہ وہ کبھی کبھی مجھ کو تمہاری ملاقات کے لئے اجازت دیا کرے اور اگر تم پہلے فوت ہو گئیں تو پھر تم اللہ تعالیٰ سے درخواست کرنا کہ وہ تمہاری روح کو کبھی کبھی مجھ سے ملنے کی اجازت دے دیا کرے اور مریم ! اس صورت میں تم میرا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سلام کہنا۔تلاوت قرآن اس کے بعد میں نے کہا مریم اتم بیماری کی وجہ سے قرآن کریم نہیں پڑھ سکتیں آؤ میں تم کو قرآن کریم پڑھ کر سناؤں۔پھر میں نے سورہ رحمن