انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 325

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۲۵ غزوہ غز وہ جنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ سے پیچھے ہٹ گئے اور صرف بارہ صحابہ آپ کے اردگرد رہ گئے۔اُس وقت حضرت عباس نے حضرت ابوبکر کے مشورہ سے آپ کو پیچھے ہٹانا چاہا مگر آپ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو کہ میں آگے جاؤں گا۔کے اسی طرح صحابہ نے بھی وہ قربانیاں کیں جو عدیم المثال ہیں لیکن آج وہ زمانہ ہے کہ رسول کریم ﷺ اس دنیا میں موجود نہیں ہیں۔آج آپ پر اعتراض کرنے والے لوگوں کا دفعیہ صرف آپ کے محبت ہی کر سکتے ہیں۔ایک وقت آپ دنیا میں موجود تھے لوگ اعتراض کرتے تو آپ اپنے صحابہ سے کہہ دیتے کہ ان کو جواب دو۔حسان کو آپ کئی دفعہ کھڑا کر دیتے اور فرماتے اللهُمَّ ايّدُهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ خدایا! تو حسان کی اپنے نشانات سے مددفرما۔بعض دفعہ آپ انہیں بتاتے بھی کہ اس طرح جواب دینا ایسا رنگ اختیار نہیں کرنا کہ ہم پر حملہ ہو جائے۔یہ چیزیں سب موجود تھیں مگر آب خدا کا وہ آخری شریعت لانے والا رسول ہم میں نہیں ہے اور جس قسم کا طعن اور جس قسم کا حملہ آج اسلام پر ہورہا ہے پہلے کبھی نہیں ہوا۔الله آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے مکہ میں رہنے والے جن کو رسول کریم ﷺ کی ہر حرکت کا پتہ تھا ، جن کو رسول کریم ﷺ کے ہر سکون کا پتہ تھا، جن کو آپ کے رات کے اعمال کا بھی پتہ تھا اور آپ کے دن کے اعمال کا بھی پتہ تھا، جن کو آپ کے معاملات کا بھی علم تھا اور آپ کی عبادات کا بھی علم تھا ، جنہیں آپ کی گفتگو کا بھی علم تھا اور آپ کے چال چلن کا بھی علم تھا، اُن سے جب رسول کریم ﷺ نے پوچھا کہ اے لوگو ! بتاؤ تم مجھے کیا سمجھتے ہو تو اُن سب نے کہا ہم آپ کو صدوق اور امین سمجھتے ہیں۔مگر آج ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد یورپ کے نا دان اور ظالم مصنف سینکڑوں صفحے بھر دیتے ہیں ان دلیلوں سے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نَعُوذُ باللهِ ایک فریب کارانسان تھے ، ایک چالباز انسان تھے ، آپ نے جھوٹا دعوی کیا اور جھوٹے دلائل سے لوگوں کو ورغلا ور غلا کر اپنی جماعت میں شامل کیا۔وہ جو شاہد و غائب کے جاننے والے تھے ، انہوں نے تو آپ کو صدوق اور امین قرار دیا مگر آج ساڑھے تیرہ سو سال کے بعد یورپین مصنف اُس کے بالکل الٹ محض اِس لئے کہ تلوار ان کے ہاتھ میں ہے، طاقت ان کے ہاتھ میں ہے ، حکومت ان کے ہاتھ میں ہے، فوجیں ان کے پاس ہیں، بنک ان کے پاس ہیں، جہاز ان کے پاس ہیں ، اپنی حکومت اور طاقت کے نشہ میں اس بل بوتے پر کہ اب