انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 293

انوار العلوم جلد ۷ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِ الرَّحِيمِ ۲۹۳ لجنہ اماءاللہ سنجیدگی سے عورتوں کی اصلاح کرے نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ لجنہ اماءاللہ سنجیدگی سے عورتوں کی اصلاح کرے ( تقریر فرموده ۲۰ رمئی ۱۹۴۴ء) تشہد ، تعوّذ ، اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- دُنیا میں انسان کے لئے سب سے قیمتی جو ہر سنجیدگی ہے۔قرآن کریم نے اس کا نام اخلاص اور ایمان رکھا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے دیدُ لِلْمُصَلِينَ، ایک طرف تو فرماتا ہے کہ نمازیں پڑھو مگر دوسری طرف نماز پڑھنے والوں کے لئے ہلاکت کا لفظ کہا ہے۔اس سے مراد وہی نماز ہے جس میں اخلاص نہ ہو۔نما ز انسان اور خدا کے درمیان ملاقات کا ذریعہ ہے۔اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے نماز خدا کے حضور حقیقی نماز نہیں کہلا سکتی۔روزہ حقیقی روزہ نہیں کہلا سکتا اگر اخلاص نہ ہو۔اگر اخلاص ہے تو حج بھی ہے زکوۃ اور صدقہ بھی ہے اگر اخلاص نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ایک ایکٹر بادشاہ بنتا ہے تو لوگ اُس سے نہیں ڈرتے لیکن ایک پندرہ میں گھماؤں کا چوہدری آتا ہے تو لوگ اُس کی عزت کرتے ہیں کیونکہ اس میں اصلیت ہے۔ایک ایکٹر بڑا چور بنتا ہے تو لوگ اُس سے نہیں ڈرتے کیونکہ اُس کا چور ہونا ایک تماشہ ہوتا ہے لیکن ایک شخص معمولی چوری کرنے والا ہوتا ہے جو دو آنے پر الیتا ہے تو لوگ اُس کے آنے پر ڈرنے لگ جاتے ہیں کہ دیکھو! چور آ گیا ہے ہوشیار رہنا۔لوگ تھیٹر میں جاتے ہیں اور وہاں ایک درزی دیکھتے ہیں جس کے پاس بڑے بڑے لارڈ وغیرہ کپڑے لے کے جاتے ہیں مگر دوسرے دن وہ اُس کے پاس اپنا کپڑا نہیں لے جاتے بلکہ اپنے معمولی درزی کے پاس جس کی سلائی چار آنے ہوتی ہے اپنا کپڑا سلانے کیلئے لے جاتے ہیں کیونکہ وہ سچا درزی ہے