انوارالعلوم (جلد 17) — Page 231
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۳۱ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں جب بھی اسلام پر کفر کا حملہ ہو ہمیں اس کے مقابلہ کے لئے یہ پریشانی نہ ہو کہ ہم روپیہ کہاں سے لائیں بلکہ ہر وقت ہمارے پاس جائدادیں موجود ہوں جن کو فروخت کر کے یا گرو رکھ کر ہم اسلام کی تبلیغ آسانی سے کر سکیں۔ہماری جماعت ایک چھوٹی سی جماعت ہے، ہماری جماعت ایک غریب جماعت ہے مگر جمعہ کے دن دو بجے میں نے یہ اعلان کیا اور ابھی رات کے دس نہیں بجے تھے کہ چالیس لاکھ روپیہ سے زیادہ کی جائدادیں انہوں نے میری آواز پر خدمت اسلام کیلئے وقف کر دیں۔جن میں سے پانچ سو سے زیادہ مربعہ زمین ہے اور ایک سو سے زیادہ مکان ہیں اور لاکھوں روپیہ کے وعدے ہیں۔یہ وہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اُس کی نصرت کے نشانات ہیں جو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جن کے بعد کوئی از لی شقی ہی خدا تعالیٰ کے اس نور کو قبول کرنے سے انکار کر سکتا ہے۔میں نے اس سے پہلے جس قدر مبلغ دنیا میں بھجوائے وہ قریباً سب کے سب اناڑی تھے کوئی کالج میں سے نکلا تو میں نے اُس سے کہا کہ خدا کے دین کے لئے آج مبلغوں کی ضرورت ہے کیا تم اس خدمت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر سکتے ہو؟ اور میرے کہنے پر وہ تبلیغ کے لئے نکل کھڑا ہوا۔یہی مولوی ظہور حسین صاحب جنہوں نے ابھی روس کے حالات بیان کئے ہیں جب انہوں نے مولوی فاضل پاس کیا تو اُس وقت لڑکے ہی تھے۔میں نے ان سے کہا کیا تم روس جاؤ گے؟ انہوں نے کہا میں جانے کے لئے تیار ہوں۔میں نے کہا جاؤ گے تو پاسپورٹ نہیں ملے گا۔کہنے لگے بے شک نہ ملے میں بغیر پاسپورٹ کے ہی اس ملک میں تبلیغ کے لئے جاؤں گا۔آخر وہ گئے اور دو سال جیل میں رہ کر انہوں نے بتا دیا کہ خدا نے کیسے کام کرنے والے وجود مجھے دیئے ہیں۔خدا نے مجھے وہ تلوار میں بخشی ہیں جو کفر کو ایک لحظہ میں کاٹ کر رکھ دیتی ہیں ، خدا نے مجھے وہ دل بخشے ہیں جو میری آواز پر ہر قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں۔میں انہیں سمندر کی گہرائیوں میں چھلانگ لگانے کے لئے کہوں تو وہ سمندر میں چھلانگ لگانے کے لئے تیار ہیں، میں انہیں پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرانے کے لئے کہوں تو وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو گرا دیں، میں انہیں جلتے ہوئے تنوروں میں گو د جانے کا حکم دوں تو وہ