انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 213

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۱۳ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں رکھتا۔چنانچہ پنڈت لیکھرام اعتراض کر رہا تھا کہ اگر اسلام سچا ہے تو نشان دکھایا جائے اندرمن اعتراض کر رہا تھا کہ اگر اسلام سچا ہے تو نشان دکھایا جائے۔آپ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور کہتے ہیں اے خدا! تو ایسا نشان دکھا جو ان نشان طلب کرنے والوں کو اسلام کا قائل کر دے، تو ایسا نشان دکھا جو اندر من مراد آبادی و غیرہ کو اسلام کا قائل کر دے۔اور یہ معترض ہمیں بتاتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی تو خدا نے آپ کو یہ خبر دی کہ آج سے تین سو سال کے بعد ہم تمہیں ایک بیٹا عطا فرمائیں گے جو اسلام کی صداقت کا نشان ہوگا۔کیا دنیا میں کوئی بھی شخص ہے جو اس بات کو معقول قرار دے سکے؟ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی شخص سخت پیاسا ہو اور کسی شخص کے دروازہ پر جائے اور کہے بھائی ! مجھے سخت پیاس لگی ہوئی ہے خدا کے لئے مجھے پانی پلاؤ اور وہ آگے سے یہ جواب دے کہ صاحب! آپ گھبرائیں نہیں میں نے امریکہ خط لکھا ہوا ہے وہاں سے اسی سال کے آخر تک ایک اعلیٰ درجہ کا ایسنس آجائے گا اور اگلے سال آپ کو شربت بنا کر پلا دیا جائے گا۔کوئی پاگل سے پاگل بھی ایسی بات نہیں کر سکتا۔کوئی پاگل سے پاگل بھی ایسی بات خدا اور اُس کے رسول کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔پنڈت لیکھرام، منشی اندر من مراد آبادی اور قادیان کے ہند و تو یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام کے متعلق یہ دعویٰ کہ اس کا خدا دنیا کو نشان دکھانے کی طاقت رکھتا ہے ایک جھوٹا اور بے بنیاد دعوئی ہے اگر اس دعوی میں کوئی حقیقت ہے تو ہمیں نشان دکھایا جائے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے خدا! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے رحمت کا نشان دکھا ، تو مجھے قدرت اور قربت کا نشان عطا فرما۔پس یہ نشان تو ایسے قریب ترین عرصہ میں ظاہر ہونا چاہئے تھا جبکہ وہ لوگ زندہ موجود ہوتے جنہوں نے یہ نشان طلب کیا تھا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔۱۸۸۹ ء میں جب میری پیدائش اللہ تعالیٰ کی پیشگوئیوں کے ماتحت ہوئی تو وہ لوگ زندہ موجود تھے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ نشان مانگا تھا پھر جوں جوں میں بڑھا اللہ تعالیٰ کے نشانات زیادہ سے زیادہ ظاہر ہوتے چلے گئے۔بچپن میں میری صحت نہایت کمزور تھی پہلے کالی کھانسی ہوئی اور پھر میری صحت ایسی گر گئی کہ گیارہ بارہ سال کی عمر تک میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہا اور عام طور پر یہی سمجھا جاتارہا کہ