انوارالعلوم (جلد 17) — Page 75
انوار العلوم جلد ۱۷ ۷۵ اسوه حسنه نجات اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے در حقیقت نجات نام ہی ہے ان اعلیٰ صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کا جو اللہ تعالیٰ کی صفات اندر پیدا کرنے کا نام ہے ہیں۔یہ ایک غلط خیال ہے جولوگوں کے دلوں۔میں پایا جاتا ہے کہ دوزخ سے بچ جانا یا جنت کامل جانا نجات ہے۔جنت کا ملنا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنے کسی دوست سے ملنے کیلئے جاتا ہے تو وہ اُس کے آگے کھانا رکھ دیتا ہے۔اب کوئی کمینہ ہی ہو گا جو اپنے دوست سے ملنے کیلئے جائے اور پھر کہے کہ مجھے کھانا بھی کھلاؤ۔کھانا وہ اپنی مرضی سے کھلاتا ہے ورنہ اس کا اصل مقصد اپنے دوست سے ملنا اور اُس سے باتیں کرنا ہوتا ہے۔اسی طرح جنت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنوں کو جو انعامات ملیں گے وہ ایک زائد چیز ہیں اور ایسے ہی ہیں جیسے دوست دوست سے ملنے کے لئے جاتا ہے تو وہ اُس کے سامنے اچھے سے اچھا کھانا بھی رکھ دیتا ہے ورنہ نجات اصل میں جنت میں داخل ہونے کا نام نہیں بلکہ اُن صفات کا انسان کے اندر پیدا ہو جانا نجات ہے جو خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔جب ہم سفلی اثرات سے محفوظ ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اندر پیدا کر لیتے ہیں تو ہمیں اسی دنیا میں جنت مل جاتی ہے۔اسی کی طرف قرآن کریم کی اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے کہ وَمَن كان في هذةٍ أَعْمَى فَهُوَفِي الآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبیلا ١٨ جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو گا وہ اگلے جہان میں بھی اندھا ہو گا۔یعنی اگر کسی شخص نے صفات الہیہ کا انعکاس اپنے آئینہ قلب میں پیدا نہیں کیا اور اس سفلی زندگی کا وہ شکار ہو چکا ہے تو اگلے جہان میں بھی اُسے کوئی ٹو ر نہیں ملے گا اور وہ اپنے آپ کو عذاب میں محسوس کرے گا کیونکہ اُس وقت حجاب اُٹھ چکا ہو گا اور اُسے علم عطا کر دیا جائے گا اور چونکہ اُس وقت اُسے اپنی نا بینائی کا علم ہو جائے گا اس لئے یہی احساس اُس کے لئے دُکھ اور عذاب کا موجب بن جائے گا۔جیسے اگر کوئی شخص بیہوش ہو اور بیہوشی کی حالت میں ہی اُس کی آنکھیں ماری جائیں تو اُسے اس کا حساس نہیں ہوتا اور نہ کوئی تکلیف محسوس ہوتی ہے لیکن اگر اُسے ہوش آ جائے تو پھر یہی چیز اس کے لئے دُکھ اور عذاب کا موجب بن جاتی ہے۔اسی طرح ایک شخص دنیا کی زندگی میں روحانی لحاظ سے اندھا ہوتا ہے مگر وہ سمجھتا نہیں کہ وہ اندھا ہے۔ایک مدہوشی کی سی حالت اُس پر طاری رہتی ہے۔لیکن