انوارالعلوم (جلد 17) — Page 74
انوار العلوم جلد کا ۷۴ جیسا معلوم ہوتا ہے۔میں نے کہا آخر اس کا کیا مطلب ہے کیا آپ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جیسے خواجہ جمال الدین صاحب موٹے ہیں اسی طرح آپ کو روس کا بڑا سا نقشہ دکھائی دیتا ہے کہنے لگے یہ تو نہیں مگر جب بھی میں روس کا نقشہ دیکھتا ہوں مجھے بالکل یوں معلوم ہوتا ہے جیسے خواجہ جمال الدین صاحب کھڑے ہیں۔میں نے کہا تو کیا اُن کے سر سے نقشہ کا کوئی حصہ ملتا ہے؟ کہنے لگے یہ تو نہیں۔میں نے کہا تو کیا اُن کے پاؤں سے نقشہ کا کوئی حصہ ملتا جلتا ہے؟ کہنے لگے یہ بھی نہیں۔صرف یہ ہے کہ جب میں نقشہ دیکھتا ہوں تو مجھے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے خواجہ جمال الدین صاحب کھڑے ہیں۔میں نے کہا اگر وہ آپ کو مشابہہ معلوم ہوتے ہیں تو مشابہت کی کوئی بات تو بتا ئیں۔مثلاً اٹلی کا نقشہ ہے اُس کے نیچے کی جگہ بُوٹ کے مشابہہ معلوم ہوتی ہے۔اسی طرح آپ کو بتانا چاہئے کہ نقشہ میں وہ کونسی بات ہے جو آپ کو خواجہ جمال الدین صاحب کے مشابہ نظر آتی ہے۔آیا اُن کے سر سے کوئی حصہ ملتا ہے یا وہ چوڑا ایسا ہے جیسے خواجہ صاحب چوڑے چکے ہیں یا اُن کے پیروں سے کوئی حصہ ملتا ہے۔کہنے لگے ان میں سے تو کوئی بات نہیں مگر میں جب دیکھتا ہوں مجھے یہی معلوم ہوتا ہے۔یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ اتنے میں میرے دوسرے عزیز آگئے اور میں نے سمجھا کہ آج تو یہ ضرور میری بات کی تائید کریں گے۔چنا نچہ میں نے کہا ابھی یہ ذکر کر رہے تھے کہ روس کا نقشہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے خواجہ جمال الدین صاحب کی شکل ہے اور میں نے ان سے بار بار پوچھا ہے کہ آپ بتائیں آپ کو دونوں میں کس چیز کی مشابہت نظر آتی ہے مگر وہ بتا نہیں سکتے اور یہی کہتے جاتے ہیں کہ وہ نقشہ خواجہ صاحب کی شکل سے ملتا ہے۔میں نے اس بات کا اُن سے ذکر کیا اور اپنے دل میں یہ سمجھا کہ آج تو یہ ضرور میری تائید کریں گے مگر وہ جھٹ کہنے لگے مجھے بھی یہ نقشہ بالکل ایسا ہی لگتا ہے جیسے خواجہ جمال الدین صاحب کھڑے ہوں۔الله تو ایسی مشابہت پر شفاعت کی اُمید رکھنا بالکل لغو بات ہے آخر کچھ نہ کچھ محمدیت سے مشابہت تو ضروری ہے ورنہ رسول کریم ﷺ اللہ تعالیٰ سے کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ یہ بھی مجھ سے ملتا جلتا ہے ، اسے بھی جنت میں داخل کر دیجئے۔