انوارالعلوم (جلد 17) — Page 67
انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۷ اسوه حسنه رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گزشتہ انبیاء کی تعلیموں کا سوال تو اس طرح حل کر دیا ۔ اب سوال ہو سکتا تھا کہ ہم ان انبیاء ہوسکتا انا متابعت کی عظیم الشان برکات کا نمونہ کہاں تلاش کریں۔ سو اس سوال کا حل بھی قرآن کریم نے پیش کر دیا کہ بالکل آسان بات ہے تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کرو۔ تمام انبیاء کا نمونہ اسی میں آ جائے گا جیسا کہ هُوَ سَشْكُمُ الْمُسْلِمِينَ : مِن قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَ تَكُونُوا شُهَدَاء عَلَى النَّاسِ والی آیت سے تفصیل کے ساتھ یہ امر بیان کیا جائے جا چکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کے اعمال پر جب ہم نگاہ دوڑاتے ہیں تو ہمیں صلى الله عروسه معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا عمل وہی کچھ تھا جس کا قرآن کریم میں ذکر آتا ہے۔ حضرت عائشہ سے ایک دفعہ کسی نے پوچھا کہ رسول کریم ﷺ کے اخلاق کیسے تھے؟ تو آپ نے فرمایا۔ تم مجھ سے کیا پوچھتے ہو كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ ۔ آپ کے اخلاق وہی کچھ تھے جن کا قرآن میں ذکر آتا ہے۔ گویا محمد رسول اللہ ﷺ کا عمل اور قرآن کریم کی بات ایک ہی تھی ۔ جو کچھ قرآن میں لکھا صلى الله عروسه تھا سمجھ لو کہ رسول کریم ویسا ہی کیا کرتے تھے اور جو کچھ رسول کریم ع کیا کرتے تھے سمجھ لو کہ اُس کا حکم قرآن کریم میں ضرور موجود ہوگا ۔ صلى الله عروسه پس تمام انبیاء کی نقل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات دے دی ۔ جب ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نقل کر لیں تو ہم اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء تو کا انعکاس اپنے آئینہ آئینہ قلب میں پیدا کر لیتے ہیں ۔ احادیث سے ثابت ہے کہ صحابہ جو کچھ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھتے تھے وہی کچھ خود کر نے لگ جاتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تے دیکھتے تھے وہی کچھ خود کرنے لگ جاتے تھے کہ یہی کام ہمیں کرنے چاہیں۔ پس اگر ہم بھی اپنے اخلاق کو درست کرنا چاہیں تو ؟ ہم کرنا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم کوئی نمونہ اپنے سامنے رکھیں اور وہ نمونہ جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات کا ہے۔ اخلاق کے معنی اخلاق کے معنی کیا ہیں؟ اخلاق در حقیقت صفات الہیہ کے اُس ظہور کا نام ہے جو بندے کی طرف سے ہو۔ پس ہم جب اللہ تعالیٰ کی صفات کی