انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page ix of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page ix

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲ تعارف کتب کرنے کی روایت کے بارہ میں منتظمات کو ہدایت فرمائی کہ یہ طریق درست نہیں ہے کیونکہ اس سے دوسری خواتین کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچتی ہے لہذا آئندہ اس روایت کو ختم کر دیا جائے ۔ اسی ہدایت کے تسلسل میں حضور نے عہدیداران و کارکنان کو یہ بھی نصیحت فرمائی کہ اور سے اُنہیں اعتراضات اور تنقید کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرنا چاہئے کیونکہ اس سے ترقی کی راہیں کھلتی ہیں ۔ ان نصائح کے بعد حضور نے اپنے اس روح پر ور خطاب میں سورۃ الکوثر کی مختصر طور پر بڑی لطیف اور حقائق و معارف پر مبنی تشریح و تفسیر فرمائی ۔ حضور نے الکوثر کے معنی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔ کوثر کے معنی ہیں کثرت بھلائی اور ایسا شخص جو بہت صدقہ و خیرات کرنے والا ہو۔ پس اس کے معنے یہ ہوں گے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو کوثر عطا فرمائی ہے یعنی ہروہ چیز جو دنیا کی نعمت ہو سکتی ہے آپ کو دی ہے۔ خیر کثیر میں ۔ قرآن کریم بھی شامل ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کی سب کتا بیں بیچ ہیں ۔ صلى الله تیسرے معنی اس زمانہ کے متعلق ہیں یعنی میں تم کو ایسا آدمی دینے والا ہوں جو بہت بڑائی ہوگا اور کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے والا ہوگا۔ رسول کریم ہے اس زمانہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ مسیح موعود لوگوں میں روپیہ تقسیم کرے گا مگر لوگ رڈ کر دیں گے ۔ لوگ غلطی سے اس کے معنی سونے چاندی کے لیتے ہیں حالانکہ سونے چاندی کو کوئی رو نہیں کیا کرتا“۔ حضور نے فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَر کا معنی کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔ پس ہر وہ شخص جس کو خدا کی طرف سے خیر کثیر ملی ہے اُس کا فرض ہے کہ زیادہ سے زیادہ عبادت میں مصروف رہے ۔ وانجز اور زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے والا ہو۔ آخر پر ان شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَر کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔ ” جب تم اس مقام پر پہنچ جاؤ تو پھر تمہیں دشمن کی کوئی پروا نہیں ہو سکتی تم کامیاب ہو جاؤ گی تمہارے دشمنوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی اور سب لوگ