انوارالعلوم (جلد 17) — Page 56
انوار العلوم جلد ۱۷ ہے ، انہوں نے میرے نمونہ پر چلنے کی سعی کی ہے اور گو ان میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں مگر پھر بھی یہ میرے مشابہہ ہیں تو اللہ تعالیٰ اُن کے متعلق اپنے رسول کی شفاعت کو منظور کر لے گا اور انہیں نجات یافتہ لوگوں میں داخل کر دے گا۔کامل نجات شفاعت کے بغیر ناممکن ہے یہ شفاعت کا مسئلہ ایسا لطیف اور ایسا کے ہے ہی اعلیٰ درجہ کا مسئلہ ہے کہ بجائے اس کے کہ اس پر اعتراض کیا جاتا دنیا کو یہ محسوس کرنا چاہئے تھا کہ کامل نجات شفاعت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔آخر ساری دنیا کو یہ ماننا پڑے گا کہ انبیاء اسی لئے آئے کہ لوگ اُن کے نمونہ کی اقتداء کریں۔ہندو بھی تسلیم کریں گے کہ حضرت کرشن اور حضرت رام چندر کو خدا تعالیٰ نے اسی لئے بھیجا تھا کہ اس زمانہ کے لوگ کرشن اور رام چندر کے نمونہ پر چلیں اور انہیں کے رنگ میں رنگین ہو جائیں۔مگر کیا ہندو یہ ماننے کیلئے تیار ہیں کہ سارے ہندو کرشن اور رام چندر جیسے بن سکتے ہیں؟ اگر نہیں بن سکتے تو تسلیم کرنا پڑیگا کہ وہ لوگ جنہوں نے کوشش کی کہ ہم کرشن جیسے بن جائیں ، جنہوں نے اخلاص اور محبت کے ساتھ اس راہ میں جدوجہد کی، جنہوں نے پورا زور لگایا کہ کرشن کی خوبو اور کرشن کے اخلاق ان کے اندر سرایت کر جائیں اُن میں اگر کچھ خامیاں رہ گئی ہوں تو عقلِ سلیم چاہتی ہے کہ حضرت کرشن قیامت کے دن اُن کے متعلق اللہ تعالیٰ کے حضور یہ کہیں کہ اے خدا انہوں نے مجھ جیسا بننے کی پوری کوشش کی تھی اور میں دیکھتا ہوں کہ ان کے دل مجھ سے ملتے جلتے ہیں کچھ تھوڑی سی کمی باقی ہے، میں شفاعت کرتا ہوں کہ ان کو جنت میں داخل کر دیا جائے اور اللہ تعالیٰ اُن کی شفاعت کو قبول کر لے۔یہی وہ مسئلہ شفاعت ہے جو اسلام کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے کہ حضرت کرشن کہیں گے کہ یہ بھی مجھ جیسے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا بہت اچھا! ہم نے انہیں نجات دے دی۔حضرت رام چندر فرما ئیں گے یہ بھی مجھ سے ملتے جلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا بہت اچھا۔جب یہ رام چندر جیسے ہیں تو میں انہیں کیوں نہ بخشوں۔غرض اسی طرح ہر قوم کا نبی آئے گا اور جن جن لوگوں کے متعلق اس قوم کا نبی یہ کہے گا کہ یہ مجھ سے ملتے ہیں، اللہ تعالیٰ اُن سب کو نجات دے دے گا اور فرمائے گا یہ موسی جیسے ہیں ، یہ ابراہیم جیسے ہیں، یہ عیسی جیسے ہیں، یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہیں ، ان کو