انوارالعلوم (جلد 17) — Page 51
۵۱ انوار العلوم جلد ۷ غلطیاں کر جاتے ہیں۔مثلاً ہمارے ملک میں روزانہ تجارتی کاموں میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ دس روپے لو اور مجھے اس کے عوض گندم بھجوا دو۔جب گندم والا اُسے گندم بھجوا دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں نے تو ایسی گندم بھجوانے کے لئے نہیں کہا تھا میں نے تو اور قسم کی گندم کا مطالبہ کیا تھا اور جس نمونہ کے مطابق گندم بھجوانے کا میں نے آرڈر دیا تھا اُس کو تم نے ملحوظ نہیں رکھا۔اسی لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب سو دالو تو دیکھ کر لوتا کہ بعد میں کوئی جھگڑا پیدا نہ ہو۔یوروپین قوموں نے انہی جھگڑوں کو دیکھتے ہوئے ہر ا قسم کے نمونے اپنے پاس رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور انہی نمونوں کے مطابق وہ اجناس کی خرید و فروخت کرتے ہیں۔اچھی گندم، اچھی کپاس، اچھی جوار اور اچھے چاولوں وغیرہ کے نمونے انہوں نے شیشے کے بڑے بڑے مرتبانوں میں بند کر کے رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔اُن مرتبانوں پر وہ تمام کو ائف لکھ دیتے ہیں کہ یہ گندم یا کپاس فلاں قسم کی ہے۔فلاں خصوصیات اس کے اندر پائی جاتی ہیں۔اسی طرح اس کی صفائی وغیرہ کے متعلق بھی جو شرائط ضروری ہوں وہ بھی اُو پر درج کر دیتے ہیں اور جب وہ اُسی قسم کی جنس کہیں سے خریدنا چاہتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ یہ نمونہ موجود ہے ہمیں ایسی گندم یا ایسی جوار یا ایسی کپاس چاہئے۔اگر تاجر اس قسم کی گندم یا کپاس مہیا کر دینے کا وعدہ کرے تو گورنمنٹ اپنے ریکارڈ میں اس امر کو محفوظ کر لیتی ہے کہ فلاں فرم کے تاجر سے اس نمونہ کے مطابق گندم یا کپاس لینی ہے۔پھر جب وہ گندم یا کپاس مہیا کرتا ہے تو ماہرین فن نمونہ کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں کہ وہ جنس کہاں تک نمونہ کے مطابق ہے۔اگر وہ نمونہ کے مطابق ہو اور کسی قسم کا نقص اُس میں نہ ہو تو گورنمنٹ اُس مال کو لے لیتی ہے ورنہ ماہرین فن یہ اندازہ لگا کر کہ نمونہ کے مقابلہ میں کس قدر کمی ہے حرجانہ ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ یہ نمونہ سے فلاں فلاں بات میں اختلاف رکھتی ہے اس لئے ہم اس قدر حرجانہ تجویز کرتے ہیں۔غرض یقینی طور پر کسی چیز کے اعلیٰ ہونے کے متعلق تبھی فیصلہ کیا جا سکتا ہے جب ہمارے پاس کوئی نمونہ موجود ہو اور یہ دیکھ لیا جائے کہ جنس نمونہ کے مطابق ہے یا نہیں۔انسانی کاموں میں چونکہ اُتار چڑھاؤ ہمیشہ جاری رہتا ہے اس لئے تھوڑی بہت کمی کا ہمیشہ احتمال رہتا ہے مگر