انوارالعلوم (جلد 17) — Page 50
انوار العلوم جلد کا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ اُسوہ حسنہ ( تقریر فرموده ۲۸ / دسمبر ۱۹۴۳ء بر موقع جلسه سالانه قادیان) تشهد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا : - آج جس موضوع پر میں اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اُس کے متعلق میرا ارادہ تو پہلے سے ہی تھا کہ میں اسے جماعت کے سامنے بیان کروں مگر مزید تحریک مجھے اس طرح ہوئی کہ ایک احمدی نوجوان نے مجھے لکھا کہ ہمارے جلسہ کی تقریروں میں جہاں علمی مضامین بیان کئے جاتے ہیں یا ایسے مضامین پر تقاریر کی جاتی ہیں جو بحث مباحثہ کے ساتھ تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں وہاں جماعت کی تربیت اور اصلاح اخلاق کے متعلق بہت کم مضامین بیان کئے جاتے ہیں اس سے میں نے سمجھا کہ یہ ایک الہی تحریک ہے جو میرے ارادہ کے ساتھ ہی دوسرے لوگوں کے دلوں میں بھی پیدا ہونی شروع ہو گئی ہے۔عجیب بات یہ ہے کہ جب میں یہاں آ کر بیٹھا تو ایک غیر مسلم دوست نے مجھے ایک رقعہ دیا جس میں اسی مضمون کے ایک حصہ کے متعلق خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ میں اس کے متعلق کچھ بیان کروں۔میں نے ان دونوں تحریکات سے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ یہ مضمون جماعت کے سامنے بیان کر دیا جائے۔نمونہ کی مطابقت دنیا کے یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ہر چیز کیلئے ایک نمونہ مقرر کیا ہوا ہے جب ہم اُس نمونہ کی نقل ہر کام میں ملحوظ رکھی جاتی ہے کرتے ہوئے کسی چیز کو تیار کر لیتے ہیں تو ہم اپنے کام میں کامیاب سمجھے جاتے ہیں لیکن جب ہمارے سامنے کوئی نمونہ نہیں ہوتا تو ہم کئی قسم کی