انوارالعلوم (جلد 17) — Page 46
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۶ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) تیسری بات ورثہ کے متعلق ہے ایک گزشتہ جلسہ کے موقع لڑکیوں کو ورثہ دیا جائے پر تمام جماعت نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ ہم لڑکیوں کو ورثہ دیں گے اور بہت سے احمدیوں نے لڑکیوں کو اُن کے حصے دیئے بھی ہیں مگر ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے وعدے کئے اور وہ فوت ہو گئے مگر اُن کی ناخلف اولا د نے نہ دیئے۔یا د رکھو یہ زمینیں اور یہ جائدادیں آئی گئی چیزیں ہیں آج ہمارے پاس ہیں تو کل دوسروں کے پاس۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے سنا کرتے تھے بلکہ یہاں کے ہندوؤں اور سکھوں سے بھی سنتے تھے کہ یہ تمہارا گاؤں تھا ، وہ تمہارا گاؤں تھا مگر آج وہاں ہمارے آدمیوں کو مارا اور بیٹا جاتا ہے۔ایسی چیزوں کیلئے خدا تعالیٰ کے فضل کو ہاتھ سے دینا جو ہمیشہ ہمیش کیلئے قائم رہنے والا ہے کتنی بڑی غلطی ہے۔میں پھر اپنی جماعت کے لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جب تک وہ عورتوں کو ورثہ نہ دیں گے اُن کے دلوں میں دین کی کامل محبت پیدا نہ ہوگی اور دنیا کی محبت سرد نہ ہوگی۔آئے دن کئی لوگ لکھتے رہتے ہیں کہ میں فلاں خاندان کا آدمی ہوں ، ہمارے خاندان کے اتنے بڑے بڑے آدمی ہیں، میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں آپ مجھے کیا دیں گے اس قسم کی چٹھیاں ہر سال ۲۰، ۲۵ تک آ جاتی ہیں۔میں جواب دیتا ہوں ہم ایمان دیں گے اور خدا کی راہ میں مار پیٹ اور گالیاں کھانے کی ہمت اور جرات پیدا کریں گے۔اگر یہ آپ نہیں لینا چاہتے اور آپ کے پاس مربعے اور جائدادیں ہیں تو پھر آپ کو احمدیوں میں آنے کی کیا ضرورت ہے۔اس قسم کے خطوط پڑھ کر مجھے تعجب آتا ہے کہ ایمان اور خدا تعالیٰ کی محبت سے لوگوں کے دل کس طرح خالی ہو گئے ہیں اور ایسے لوگوں نے ہم میں آ کر کیا لینا ہے۔ہمارے ہاں تو ماریں پیٹیں ہیں اور ان کے جاری رہنے میں ہی ہمارے لئے لطف ہے جب یہ چلی گئیں تو لطف بھی جاتا رہے گا۔قادیان کی ترقی جماعت کو خدا تعالیٰ دنیوی ترقیات بھی دے گا۔قادیان بہت پھیلے گی اور ترقی کرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا ہے کہ قادیان کے بازاروں میں بڑی بڑی توندوں والے جو ہری بیٹھے ہیں۔ایسا وقت بھی آئے گا مگر کسی احمدی سے جو اس وقت قادیان میں چپڑاسی کا ہی کام کرتا ہوا سے کوئی پوچھے کہ