انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 38 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 38

انوار العلوم جلد کا ۳۸ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۳) کا کنبہ ہو تو اُن کے کھانے پینے ، شادی بیاہ ، موت وغیرہ کے اخراجات اُن کی چودہ روپیہ ماہوار آمد سے ہی ہوتے ہیں۔پھر انہیں چندہ دینا ہوتا ہے، وصیت کا چندہ ادا کرنا ہوتا ہے ، جلسہ پر آنے کے اخراجات بھی ادا کرنے پڑتے ہیں، کوئی نہ کوئی اخبار خریدنا ہوتا ہے، کوئی کتاب خرید لی جاتی ہے، غریبوں اور محتاجوں کی امداد کیلئے بھی کچھ نہ کچھ دینا ہوتا ہے اس طرح آمدنی کا ایک تہائی یا کم از کم ایک چوتھائی حصہ چلا جاتا ہے۔اتنے چندے ادا کرنے کے بعد اور اتنے غریب ملک میں لوگوں کے متعلق یہ خیال کرنا کہ ہر فرد کو چندہ دینا چاہئے کس طرح درست ہوسکتا ہے۔معلوم ہوتا ہے مولوی صاحب نے آمد کی اوسط چالیس روپیہ لگائی ہے اور اس کے مطابق ہم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اتنا چندہ بتاؤ۔مجھے فرانس کی ایک ملکہ کی مثال یاد آ گئی۔ایک دفعہ کچھ غریب اکٹھے ہو کر اُس کے محل کے پاس گئے اور روٹی روٹی کا شور مچایا۔ملکہ نے پوچھا یہ لوگ کیوں شور مچارہے ہیں؟ بتایا گیا کہ کہتے ہیں روٹی نہیں ملتی۔ملکہ نے کہا روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھاتے۔مولوی صاحب بھی معلوم ہوتا ہے ایسے ہی مرض میں مبتلاء ہیں۔کہتے ہیں دس لاکھ جماعت ہے تو چالیس کروڑ چندہ ہونا چاہئے تھا حالانکہ صاف بات ہے پانچ ہزار تو وہ اپنی تعداد مانتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا رویا اپنے آپ پر چسپاں کرنے کیلئے وہ اس لحاظ سے اپنا چندہ دو لاکھ دکھا دیں۔آخر میں تو مولوی صاحب نے غضب ہی کر دیا۔کہتے ہیں کہاں ہے ہیں لاکھ روپیہ چندہ کا ؟ دکھاؤ!! گویا ہم اُن کو منی آرڈر کر کے بھیج دیں تب وہ مانیں گے کہ ہمیں لاکھ روپیہ ہمیں چندہ وصول ہوا ہے۔ہم تو ایسے حو صلے والے ہیں کہ مولوی صاحب قادیان سے جاتے ہوئے کئی ہزار روپیہ کی کتب لے گئے۔میرے پاس اُس وقت لوگ آئے کہ یہ چیزیں لے جانے سے اُن کو روکا جائے۔میں نے کہا جہاں مولوی صاحب جاتے ہیں وہاں ہی ان چیزوں کو بھی جانے دو مگر ان کی حالت یہ ہے کہ ہمارے گھر کا حساب مانگ رہے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جنہوں نے ابھی تک چندہ تحریک جدید نہیں لکھا یا وہ اب کے بڑھ چڑھ کر قربانی کریں گے۔آئندہ کیلئے میرے مدنظر ایک اور سکیم ہے جو پچھلے سال نہ تھی مگر اس سال اس کا حصہ معتین طور پر میرے دل میں ہے۔میں ابھی اس کا ذکر نہیں کرتا اگلے سال ظاہر