انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 608 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 608

انوار العلوم جلد کا ۶۰۸ الموعود لیڈروں نے بھی کی۔ایسے حالات میں جبکہ جماعت کی ترقی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی اللہ تعالیٰ نے مجھ پر الہام نازل کیا اور فرمایا کہ میں تیرے دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔میں تیری تمام مشکلات کو دور کروں گا اور تجھے غلبہ اور کامیابی عطا کروں گا چنانچہ باوجود اس کے کہ قدم قدم پر مشکلات حائل تھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق ہماری جماعت کو ترقی دی اور ایسی ترقی دی کہ وہ جو اپنے آپ کو پچانوے فیصدی کہا کرتے تھے آج اپنے آپ کو پانچ فیصدی بلکہ اس سے بھی کم قرار دے رہے ہیں اور ہمارے متعلق تسلیم کرتے ہیں کہ اس جماعت کی تعداد زیادہ ہے، اس کی طاقت زیادہ ہے اور اس میں کام کرنے والے آدمی زیادہ ہیں۔یہ ترقی یقیناً ہماری صداقت کا ثبوت ہے۔کیونکہ یہ وہ ترقی ہے جو مخالف حالات میں ہوئی۔دنیا نے چاہا کہ ہمیں مٹا دے مگر خدا نے ہمیں کامیاب کیا اور ہمیں ہر لحاظ سے غلبہ واقتدار عطا فرمایا اور وہ دشمن جو ہماری تباہی کے منصوبے سوچ رہے تھے خدا تعالیٰ نے اُن کو ناکام و نامراد کیا۔یہ چیز ہے جسے ہم اپنی صداقت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یہ چیز ایسی ہے جس کا کوئی دشمن سے دشمن بھی انکار نہیں کر سکتا۔آٹھواں اعتراض پھر مولوی صاحب نے ایک اور اعتراض یہ کیا ہے کہ تم جو کہتے ہو ہم نے بڑی ترقی کی ، یہ بالکل غلط ہے۔ترقی تو ہم نے کی ہے کہ ہماری پہلے سال آمد صرف سات ہزار روپیہ تھی جو اب ترقی کر کے سوا چار لاکھ روپیہ تک جا پہنچی ہے اور تمہاری پہلے سال دولاکھ روپیہ آمد تھی جو اب ترقی کر کے چھ لاکھ تک پہنچی ہے۔گویا تم نے صرف تین گنا ترقی کی اور ہم نے ساٹھ گنا کی۔چنانچہ مولوی صاحب لکھتے ہیں۔آمدنی جو سال اول میں صرف سات ہزار روپے تھی ترقی کر کے سوا چار لاکھ تک پہنچی جو سال اوّل سے ساٹھ گنا ہے اور قا دیانی جماعت اپنے سارے بلند بانگ دعاوی کے ساتھ دولاکھ آمدنی سے ترقی کر کے صرف چھ لاکھ سالانہ آمدنی تک پہنچی۔جو ابتدائی حالت سے تگنی ہے۔کجا ساٹھ گئی ترقی اور کہاں تگنی۔‘۵۱۴ مولوی صاحب کی عادت ہے کہ وہ واقعات کو بگاڑے بغیر نہیں رہ سکتے۔اُن کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی بڑھیا تھی جسے چوری کی عادت تھی۔ایک دفعہ وہ کسی کے