انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 609

انوار العلوم جلد ۱۷ ۶۰۹ الموعود گھر گئی تو ایک آدمی اُس کے ساتھ ساتھ رہا تا کہ وہ کوئی چیز چرا نہ سکے۔جب وہ واپس آنے لگی تو اُس نے دہلیز سے ذراسی مٹی اُٹھالی۔کسی نے اُس سے پوچھا کہ تم نے یہ کیا کیا ہے؟ وہ کہنے لگی عادت جو پوری کرنی ہوئی اور کوئی چیز نہیں ملی تو میں نے کہا چلومٹی ہی اُٹھا لیں۔یہی بات مولوی صاحب میں پائی جاتی ہے کہ وہ حوالوں میں کتر بیونت یا واقعات کو مسخ کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتے۔جب بھی کوئی بات پیش کریں گے اُس میں ضرور کوئی نہ کوئی غلط بات شامل کر دیں گے۔اول تو ہم کہتے ہیں کہ اگر مولوی صاحب کی یہ بات درست ہے کہ اُن کا پہلے سال کا بجٹ صرف سات ہزار روپیہ کا تھا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جو لوگ اُن کے ساتھ تھے اُن کے ایمان نہایت کمزور تھے اور وہ دین کے لئے قربانی کا مادہ اپنے اندر نہیں رکھتے تھے کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمدحسین شاہ صاحب، شیخ رحمت اللہ صاحب، ڈاکٹر بشارت احمد صاحب، ڈاکٹر غلام محمد صاحب اور اسی طرح ان کے دوسرے ساتھی بڑی بڑی آمد نہیں رکھتے تھے۔شیخ رحمت اللہ صاحب ہی تین سو روپیہ ماہوار چندہ دیا کرتے تھے۔اگر صرف اُن کا چندہ ہی شامل کر لیا جائے تو سال کا ۳۶۰۰ روپیہ بن جاتا ہے۔پھر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب ، ڈاکٹر بشارت صاحب اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب وغیرہ کی آمد میں بھی تین تین چار چار ہزار روپیہ سالانہ سے کم نہیں تھیں۔اگر ان میں سے ایک ایک شخص کے سالانہ چندہ کی اوسط ۱۸۰ روپیہ بھی جائے تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ ۹۰۰ روپیہ سالانہ صرف پانچ ڈاکٹروں کی طرف سے ہی آ جاتا تھا۔۶۰۰ ۳ و ہ اور ۹۰۰ روپیہ یہ ساڑھے چار ہزار روپیہ ہو گیا۔پھر لائل پور کے شیخ مولا بخش صاحب ہیں۔اسی طرح وزیر آباد کے شیخ نیاز احمد صاحب ہیں اِن سب کی آمدنیوں کو ملا لیا جائے تو کئی لاکھ روپیہ بن جاتا ہے۔لائل پور کے تاجر ملک التجار کہلاتے ہیں اور بعض لوگ بتاتے ہیں کہ اُن کو ساٹھ لاکھ روپیہ سالانہ تک آمد ہو جاتی ہے۔اگر اس میں کچھ مبالغہ بھی ہو اور اُن کی ہیں لاکھ روپیہ سالانہ آمد سمجھ لو تب بھی سوالاکھ روپیہ تو انہیں صرف ایک خاندان سے مل سکتا تھا۔اگر اس قدر دولت رکھنے والے لوگوں کے باوجود ان کا سالانہ چند صرف سات ہزار روپیہ تھا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کمزور طبیعت کے تھے۔ایمان اور اخلاص کے ساتھ وہ مولوی صاحب کے ساتھ شامل نہیں ہوئے تھے۔